بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی فرضیت کی عمر


سوال

روزہ رکھنا کتنے سال کی عمر میں فرض ہے ؟

جواب

روزہ بالغ پر فرض ہوتا ہے ، اگر پندرہ سال کی عمر سے پہلے ہی بلوغت کی علامات ( مثلاً احتلام وغیرہ) میں سے کوئی علامت ظاہر ہوجائے تو اسی وقت سے روزہ فرض ہو جائے گا ، لیکن اگر کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو لڑکا اور لڑکی دونوں قمری تاریخ کے حساب سے پندرہ سال کی عمر پوری ہونے پر بالغ سمجھے جائیں گے اور جس دن سولہواں سال شروع ہوگا اس دن سے ان پر نماز روزہ وغیرہ فرض ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 153):

"(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال، (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحاً؛ لأنه قلما يعلم منها، (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنةً، به يفتى)؛ لقصر أعمار أهل زماننا، (وأدنى مدته له اثنتا عشرة سنةً ولها تسع سنين) هو المختار، كما في أحكام الصغار.

(قوله: به يفتى) هذا عندهما وهو رواية عن الإمام، وبه قالت الأئمة الثلاثة، وعند الإمام حتى يتم له ثماني عشرة سنةً ولها سبع عشرة سنةً. (قوله: لقصر أعمار أهل زماننا)؛ ولأن «ابن عمر - رضي الله تعالى عنهما - عرض على النبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد  وسنه أربعة عشر فرده، ثم يوم الخندق وسنه خمسة عشر فقبله»؛ ولأنها العادة الغالبة على أهل زماننا، وغيرهما احتياط فلا خلاف في الحقيقة، والعادة إحدى الحجج الشرعية فيما لا نص فيه، نص عليه الشمني وغيره، در منتقى".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200699

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے