بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

رمی میں نیابت


سوال

دس ذی الحج کی رمی واجب ہے یا سنت؟  اسی طرح گیارہ اور بارہ ذی الحج کی رمی کا حکم بھی بتا دیں۔ اگر بارہویں تاریخ کو کوئی آدمی خود رمی نہ کرسکے، بلکہ کسی اور کو رمی کے لیے بھیج دے جب کہ دس اور گیارہ کی رمی خود کی تھی۔ لیکن بارہ کی رمی؛  چوں کہ میں چل ہی نہیں سکتا تھا اور پاؤں میں خون اور پیپ پیدا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے میں تھوڑا بھی چل نہیں سکتا تھا تو اس طرح کسی اور سے رمی کروانا درست رہا؟

جواب

 10، 11 اور 12 ذوالحجہ میں رمی جمرات واجب ہے۔

اگر کوئی شخص معذور ہو اور اس کے لیے رمی کے لیے خود جانا عذر کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کو رمی کے لیے وکیل بنا دے، لہذا اگر بارہ ذو الحجہ کو عذر کی وجہ سے رمی جمرات کے لیے آپ کا جانا ممکن نہیں تھا اور آپ نے کسی اور کو رمی کے لیے اپنا نائب بنا کر بھیج دیا تھا تو اس طرح رمی کروانا درست ہو گیا۔

الفقه الإسلامي وأدلته (3/ 561):
"رمي الجمار (جمرة العقبة يوم النحر، والجمار الثلاث أيام التشريق) واجب اتفاقاً، اتباعاً لفعل النبي صلّى الله عليه وسلم". 

الفقه الإسلامي وأدلته (3/ 562):
"وتجوز الإنابة في الرمي لمن عجز عن الرمي بنفسه لمرض أو حبس، أو كبر سن أو حمل المرأة، فيصح للمريض بعلة لايرجى زوالها قبل انتهاء وقت الرمي".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200658

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے