بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے روزے کی نیت کب تک کر سکتے ہیں؟


سوال

 فرض روزہ میں جیسے رمضان کے مہینے میں نیت روزانہ کرنا ضروری ہے؟ اور کس ٹائم تک کر سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نیت دِل کے ارادے کا نام ہے اور رمضان کے مہینے میں روزے کی نیت کرنا ضروری ہے، دل میں ارادہ کر لینا بھی کافی ہے،  بہرحال اس نیت کے استحضار کے لیے اگر زبان سے بھی نیت کر لیں تو بہتر ہے، نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ رمضان کے مہینے میں رات ہی سے نیت کر لینا مستحب ہے اور اگر رات کو نیت نہ کر سکا یا بھول گیا تو نصفِ نہار شرعی سے پہلے پہلے روزے کی نیت کر سکتے ہیں۔نصفِ نہار شرعی سے مراد یہ ہے کہ اگر  صبح صادق کے طلوع اور سورج کے غروب کے وقت کو  دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اس کے درمیانی نقطے کو نصفِ نہارِ شرعی  کہتے ہیں، اس وقت سے پہلے رمضان کے روزے کی نیت کرنا ضروری ہے۔

فقہاء نے لکھا ہے کہ رمضان المبارک میں روزے کے ارادے سے سحری کرنا بھی نیت کے قائم مقام ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 377):
"(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل) فلاتصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى لا) بعدها". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 377):
"(قوله: إلى الضحوة الكبرى) المراد بها نصف النهار الشرعي والنهار الشرعي من استطارة الضوء في أفق المشرق إلى غروب الشمس".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200272

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے