بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں کن لوگوں کی بخشش نہیں ہوتی؟


سوال

رمضان میں کون کون سے لوگوں کے بخشش نہیں ہوتی؟

جواب

رمضان کے فضائل سے متعلق ایک طویل حدیث میں چار اشخاص کا ذکر ہے کہ ان کی رمضان میں بھی مغفرت نہیں ہوتی، جو درج ذیل ہیں:

۔ایک وہ شخص جو شراب کا عادی ہو۔

2۔دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو ۔

3۔تیسرا وہ شخص جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ توڑنے والا ہو ۔

4۔چوتھا وہ شخص جو (دِل میں)کینہ رکھنے والا ہو اور آپس میں قطع تعلق کرنے والا ہو ۔‘‘

اس حدیث کا ایک حصہ  درج ذیل ہے، ملاحظہ ہو :

"حق تعالیٰ شانہ رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہوچکے ہوتے ہیں ، اور جب رمضان کا آخری دِن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آخری رمضان تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد  کیے گئے ہوتے ہیں اُن کے برابر اُس ایک دِن میں آزاد فرماتے ہیں ۔

اور جس رات ’’شبِ قدر‘‘ ہوتی ہے تو اُس رات حق تعالیٰ شانہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ( زمین پراُترنے کا ) حکم فرماتے ہیں، وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اُترتے ہیں ، اُن کے ساتھ ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے، جس کو کعبہ کے اوپر کھڑا کرتے ہیں ۔

حضرت جبرئیل ؑ کے سو (100)بازو ہیں جن میں سے دو بازو صرف اِسی ایک رات میں کھولتے ہیں ، جن کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ہیں ، پھر حضرت جبرئیل ؑ فرشتوں کو تقاضا فرماتے ہیں : ’’جو مسلمان آج کی رات کھڑا ہو یا بیٹھا ہو، نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کر رہا ہواُس کو سلام کریں اور اُس سے مصافحہ کریں اور اُن کی دُعاؤں پر آمین کہیں ، صبح تک یہی حالت رہتی ہے، جب صبح ہوجاتی ہے تو حضرت جبرئیل آواز دیتے ہیں : ’’اے فرشتوں کی جماعت! اب کوچ کرواور چلو!۔‘‘ فرشتے حضرت جبرئیل  سے پوچھتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے مؤمنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ فرمایا ؟‘‘ وہ کہتے ہیں  : ’’ اللہ تعالیٰ نے اِن پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرمادیا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : ’’ وہ چار شخص کون سے ہیں؟ ‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

1۔ایک وہ شخص جو شراب کا عادی ہو۔

2۔دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو ۔

3۔تیسرا وہ شخص جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ توڑنے والا ہو ۔

4۔چوتھا وہ شخص جو (دِل میں)کینہ رکھنے والا ہو اور آپس میں قطع تعلق کرنے والا ہو ۔‘‘

پھر جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس رات کا نام آسمانوں پر ’’لیلۃ الجائزہ‘‘ (یعنی انعام کی رات) رکھا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں ، وہ زمین پر اُتر کر تمام گلیوں اور راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے (کہ جس کو جنات اور انسانوں کے علاوہ ہر مخلوق سنتی ہے) پکارتے ہیں : ’’اے حضرت محمدﷺ کی اُمت! اُس کریم رب کی (درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے ، پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں : ’’کیا بدلہ ہے اُس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں : ’’اے ہمارے معبود اور ہمارے مالک! اُس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اُس کو پوری پوری دے دی جائے ۔‘‘ تو حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اُن کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطاکردی ۔‘‘ اور بندوں سے خطاب فرماکر ارشاد ہوتا ہے : ’’اے میرے بندو!مجھ سے مانگو! میری عزت کی قسم ، میرے جلال کی قسم! آج کے دِن اپنے اِس اِجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے میں پورا کروں گا اور دُنیا کے بارے میں جو سوال کروگے اُس میں تمہاری مصلحت دیکھوں گا ۔ میری عزت کی قسم !جب تک تم میرا خیال رکھوگے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا (اور اُن کو چھپاتا رہوں گا)، میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے سامنے ذلیل اور رُسوا نہیں کروں گا ۔ بس! اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ ! تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔‘‘پس فرشتے اِس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اِس اُمت کو افطار (یعنی عید الفطر )کے دِن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اورکھِل جاتے ہیں۔‘‘(الترغیب و الترہیب)

شعب الإيمان (5/ 277)
''قال: " ولله عز وجل في كل يوم من شهر رمضان عند الإفطار ألف ألف عتيق من النار كلهم قد استوجبوا النار، فإذا كان آخر يوم من شهر رمضان أعتق الله في ذلك اليوم بقدر ما أعتق من أول الشهر إلى آخره، وإذا كانت ليلة القدر يأمر الله عز وجل جبريل عليه السلام، فيهبط في كبكبة من الملائكة إلى الأرض ومعهم لواء أخضر، فيركز اللواء على ظهر الكعبة، وله مائة جناح، منها جناحان لا ينشرهما إلا في تلك الليلة، فينشرهما في تلك الليلة، فيجاوز المشرق إلى المغرب، فيبث جبريل عليه السلام الملائكة في هذه الليلة فيسلمون على كل قائم، وقاعد، ومصل وذاكر يصافحونهم، ويؤمّنون على دعائهم حتى يطلع الفجر، فإذا طلع الفجر ينادي جبريل: معاشر الملائكة! الرحيل الرحيل، فيقولون: يا جبريل! فما صنع الله في حوائج المؤمنين من [ص:278] أمة محمد صلى الله عليه وسلم؟ فيقول جبريل: نظر الله إليهم في هذه الليلة فعفا عنهم، وغفر لهم إلا أربعة "، فقلنا: يا رسول الله من هم؟ قال: " رجل مدمن خمر، وعاق لوالديه، وقاطع رحم، ومشاحن ". قلنا: يا رسول الله، ما المشاحن؟ قال: هو المصارم. فإذا كانت ليلة الفطر سميت تلك الليلة ليلة الجائزة، فإذا كانت غداة الفطر بعث الله الملائكة في كل بلاد فيهبطون إلى الأرض فيقومون على أفواه السكك، فينادون بصوت يسمع من خلق الله عز وجل إلا الجن والإنس فيقولون: يا أمة محمد! اخرجوا إلى رب كريم يعطي الجزيل، ويعفو عن الذنب العظيم، فإذا برزوا إلى مصلاهم، يقول الله عز وجل للملائكة: ما جزاء الأجير إذا عمل عمله؟ فتقول الملائكة: إلٰهنا وسيدنا! جزاؤه أن توفيه أجره، قال: فيقول: فإني أشهدكم يا ملائكتي أني قد جعلت ثوابهم من صيامهم شهر رمضان وقيامه رضائي ومغفرتي، ويقول: يا عبادي، سلوني فوعزتي وجلالي لا تسألوني اليوم شيئاً في جمعكم لآخرتكم إلا أعطيتكم، ولا لدنياكم إلا نظرت لكم، فوعزتي لأسترن عليكم عثراتكم ما راقبتموني، فوعزتي لا أخزيكم ولا أفضحكم بين يدي أصحاب الحدود، انصرفوا مغفوراً لكم قد أرضيتموني ورضيت عنكم، فتفرح الملائكة ويستبشرون بما يعطي الله عز وجل هذه الأمة إذا أفطروا من شهر رمضان''.

فضائل الأوقات للبيهقي (ص: 251)
'' فيقول: نظر الله إليهم في هذه الليلة فعفا عنهم وغفر لهم إلا أربعة "، فقلنا: يا رسول الله، من هم؟ قال [ص:252]: «مدمن خمر، وعاق والديه، وقاطع رحم، ومشاحن» قلنا: يا رسول الله، وما المشاحن؟ قال: " هو المصارم"۔

قال: ولله عز وجل في كل يوم من شهر رمضان عند الإفطار ألف ألف عتيق من النار كلهم قد استوجبوا النار، فإذا كان آخر يوم من شهر رمضان أعتق الله في ذلك اليوم بقدر ما أعتق من أول الشهر إلى آخره، وإذا كانت ليلة القدر يأمر الله عز وجل جبرائيل عليه السلام فيهبط في كبكبة من الملائكة ومعهم لواء أخضر فيركزوا اللواء على ظهر الكعبة، وله مائة جناح، منها جناحان لا ينشرهما إلا في تلك الليلة، فينشرهما في تلك الليلة فيجاوزان المشرق إلى المغرب، فيحث جبرائيل عليه السلام الملائكة في هذه الليلة فيسلمون على كل قائم وقاعد ومصل وذاكر، ويصافحونهم ويؤمّنون على دعائهم حتى يطلع الفجر، فإذا طلع الفجر ينادي جبرائيل عليه السلام: معاشر الملائكة! الرحيل الرحيل، فيقولون: يا جبرائيل فما صنع الله في حوائج المؤمنين من أمة أحمد صلى الله عليه وسلم؟ فيقول: نظر الله إليهم في هذه الليلة فعفا عنهم وغفر لهم إلا أربعة، فقلنا: يا رسول الله! من هم؟ قال: "رجل مدمن خمر، وعاق لوالديه، وقاطع رحم، ومشاحن".
قلنا: يا رسول الله! ما المشاحن؟ قال: هو المصارم. فإذا كانت ليلة الفطرسميت تلك الليلة ليلة الجائزة، فإذا كانت غداة الفطر بعث الله عز وجل الملائكة في كل بلاد فيهبطون إلى الأرض فيقومون على أفواه السكك، فينادون بصوت يسمع من خلق الله عز وجل إلا الجن والإنس، فيقولون: يا أمة محمد! اخرجوا إلى رب كريم يعطي الجزيل ويعفو عن العظيم، فإذا برزوا إلى مصلاهم يقول الله عز وجل للملائكة: ما جزاء الأجير إذا عمل عمله؟ قال: فتقول: الملائكة إلٰهنا وسيدنا! جزاؤه أن توفيه أجره.
قال: فيقول: فإني أشهدكم يا ملائكتي أني قد جعلت ثوابهم من صيامهم شهر رمضان وقيامهم رضاي ومغفرتي، ويقول: يا عبادي سلوني فوعزتي وجلالي لا تسألوني اليوم شيئاً في جمعكم لآخرتكم إلا أعطيتكم ولا لدنياكم إلا نظرت لكم، فوعزتي لأسترنّ عليكم عثراتكم ما راقبتموني، وعزتي وجلالي لا أخزيكم ولا أفضحكم بين أصحاب الحدود، وانصرفوا مغفوراً لكم قد أرضيتموني ورضيت عنكم، فتفرح الملائكة وتستبشر بما يعطي الله عز وجل هذه الأمة إذا أفطروا من شهر رمضان''.
''رواه الشيخ ابن حبان في كتاب الثواب والبيهقي، واللفظ له، وليس في إسناده من أجمع على ضعفه''۔
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200820

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے