بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں لوگوں کے اذان تک سحری میں مشغول رہنے کی وجہ سے وقت سے پہلے اذان دینا اور امام ابو یوسف کے قول پر عمل کا حکم


سوال

 ہمارے ہاں رمضان المبارک میں لوگوں کا یہ حال ہے کہ سحری کے وقت اذان کے آخری کلمے  تک کھاتے پیتے رہتےہیں،اور جو حضرات احتیاط کرنے والے شمار ہوتے ہیں۔وہ اذان شروع ہوتے ہی امساک کرلیتے ہیں، حال آں کہ اذان صبح صادق کے 2،3 منٹ بعد دی جاتی ہے۔ علماءِ کرام کے منع کرنے کے باوجود لوگ ایسا کرنے سے باز نہیں آتے، اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسا کرنے سے روزہ درست ہوگا یا نہیں؟ اگر روزہ درست نہیں ہوتا تو کیا لوگوں کے روزوں کی حفاظت کے واسطے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کےدرج ذیل قول پر عمل کیا جا سکتا ہے؟

۱- دُخُول وَقْتِ الصَّلاَةِ الْمَفْرُوضَةِ شَرْطٌ لِلأذَانِ، فَلاَ يَصِحُّ الأذَانُ قَبْل دُخُول الْوَقْتِ - إِلاَّ فِي الأذَانِ لِصَلاَةِ الْفَجْرِ عَلَى مَا سَيَأْتِي - لأنَّ الأذَانَ شُرِعَ لِلاعْلاَمِ بِدُخُول الْوَقْتِ، فَإِذَا قُدِّمَ عَلَى الْوَقْتِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَائِدَةٌ، وَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَبْل الْوَقْتِ أَعَادَ الأذَانَ بَعْدَ دُخُول الْوَقْتِ، إِلاَّ إِذَا صَلَّى النَّاسُ فِي الْوَقْتِ وَكَانَ الأذَانُ قَبْلَهُ فَلاَ يُعَادُ. وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ قَبْل طُلُوعِ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ: أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ، فَرَجَعَ فَنَادَى: أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ. وَالْمُسْتَحَبُّ إِذَا دَخَل الْوَقْتُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي أَوَّلِهِ، لِيَعْلَمَ النَّاسُ فَيَأْخُذُوا أُهْبَتَهُمْ لِلصَّلاَةِ، وَكَانَ بِلاَلٌ لاَ يُؤَخِّرُ الأذَانَ عَنْ أَوَّل الْوَقْتِ أَمَّا بِالنِّسْبَةِ لِلْفَجْرِ فَذَهَبَ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يُوسُفَ مِنَ الْحَنَفِيَّةِ إِلَى أَنَّهُ يَجُوزُ الأذَانُ لِلْفَجْرِقَبْل الْوَقْتِ، فِي النِّصْفِ الأخِيرِ مِنَ اللَّيْل عِنْدَ الشَّافِعِيَّةِ وَالْحَنَابِلَةِ وَأَبِي يُوسُفَ، وَفِي السُّدُسِ الأخِيرِ عِنْدَ الْمَالِكِيَّةِ. وَيُسَنُّ الأذَانُ ثَانِيًا عِنْدَ دُخُول الْوَقْتِ لِقَوْل النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ.وَعِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ - غَيْرِ أَبِي يُوسُفَ - لاَ يَجُوزُ الأذَانُ لِصَلاَةِ الْفَجْرِ إِلاَّ عِنْدَ دُخُول الْوَقْتِ، وَلاَ فَرْقَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ غَيْرِهَا مِنَ الصَّلَوَاتِ (الموسوعة الفقهية الكويتية ٢/٣٦٢،٣٦٣) ناشر دارالسلاسل - الكويت

۲- لايصح الأذان ويحرم باتفاق الفقهاء قبل دخول وقت الصلاة، فإن فعل أعاد في الوقت؛ لأن الأذان للإعلام، وهو قبل دخول الوقت تجهيل. ولذا يحرم الأذان قبل الوقت لما فيه من التلبيس والكذب بالإعلام بدخول الوقت، كما يحرم تكرير الأذان عند الشافعية، وليس منه أذان المؤذنين المعروف في كل مسجد.لكن أجاز الجمهور غير الحنفية، وأبو يوسف: الأذان للصبح بعد نصف الليل، ويندب بالسَّحَر وهو سدس الليل الأخير، ثم يعاد استناناً عند طلوع الفجرالصادق (الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُهُ ١/٦٩٨) الناشر: دار الفكر - سوريَّة - دمشق

۳- قال العلامة النووى الشافعى (المتوفى: ٦٧٦هـ) رحمه الله : مَذَاهِبِ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَذَانِ لِلصُّبْحِ وَغَيْرِهَا: أَمَّا غَيْرُهَا فَلَا يَصِحُّ الْأَذَانُ لَهَا قَبْلَ وَقْتِهَا بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ نَقَلَ الْإِجْمَاعَ فِيهِ ابْنُ جَرِيرٍ وَغَيْرُهُ وَأَمَّا الصُّبْحُ فَقَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ مَذْهَبَنَا جَوَازُهُ قَبْلَ الْفَجْرِ وَبَعْدَهُ وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَأَبُو يُوسُفَ وَأَبُو ثَوْرٍ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ وَدَاوُد وَقَالَ الثَّوْرِيُّ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٌ لَا يَجُوزُ قَبْلَ الْفَجْرِ وَحَكَى ابْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ طَائِفَةٍ أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُؤَذِّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ إنْ كَانَ يُؤَذِّنُ بَعْدَهُ (المجموع شرح المهذب ٣/٨٩) الناشر: دار الفكر 

جواب

سحری کا وقت صبح صادق تک ہوتا ہے اور صبح صادق کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اب اگر فجر کا وقت داخل ہوچکا ہے تو کھانا پینا جائز نہیں،اگر چہ فجر کی اذان نہ ہوئی ہو اور اگر فجر کا وقت داخل نہیں ہوا ہے تو کھانا پینا جائز ہے اگر چہ فجر اذان ہوگئی ہو،بہرحال اصل مدار وقت پر ہے، اذان تو وقت کی علامت ہے. جیسا کہ باری تعالی کا فرمان ہے:

﴿ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ ﴾ (البقرة:187)

فجر کا وقت چوں کہ  صبح صادق کے بعد ہوتا ہے، اور فجر کی اذان صبح صادق کے بعد دی جاتی ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں اذان شروع ہونے کے بعد روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز نہیں ہے، پس اگر کسی نے اس دوران ناواقفیت میں کھا پی لیا تو اس کا  روزہ نہ ہوگا، بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی۔

وقت سے پہلے  اذان دینا جائز نہیں ہے،  احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت موجود ہے، نیز اذان نماز کا وقت داخل ہونے کی خبر دینے کے لیے مشروع کی گئی ہے، اور وقت داخل ہونے سے پہلے وقت داخل ہونے کی خبر دینا خلافِ حقیقت ہے  اور موذن کا یہ فعل امانت میں خیانت ہے،  جب کہ  مؤذن کو رسول ﷺ نے امین قرار دیا ہے۔ اس لیے احناف کے مفتی بہ قول کے مطابق کسی بھی نماز کی اذان وقت داخل ہونے سے پہلے دینا جائز نہیں ہے۔ اگر دے دی تو وقت داخل ہونے کے بعد اس کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا۔

فجر کے علاوہ باقی نمازوں کی اذان میں دیگر ائمہ کا بھی یہی مسلک ہے، البتہ ائمہ ثلاثہ ؒ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فجر کی اذان وقت سے پہلے دینے کو جائز قرار دیتے ہیں،  لیکن احناف کے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے، اور احناف کا مسلک نقلی اور عقلی دلائل دونوں سے مؤید اور قوی ہے۔

اب صورتِ مسئولہ میں مذکورہ حل کے لیے لوگوں کے سامنےشرعی مسئلہ واضح کیا جائے، اور  انہیں سحری کا وقت ختم ہونے کی خبر دینے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ کوئی سائرن یا گھنٹی یا کوئی ایسی علامات مقرر کردی ہے جس سے وہ باخبر ہوجائیں کہ  سحری کا وقت ختم ہوگیا ہے، جیساکہ بعض شہروں میں یہ طریقہ رائج ہے، کہ وہ صبح صادق کا وقت ختم ہونے سے چند گھڑیاں قبل سائرن بجاتے ہیں۔ اور اذان وقت داخل ہونے کے بعد ہی دی جاتی ہے۔

اگر تمام تر کوشش کے بعد یہ طریقہ بھی کارگر نہ ہو تو  پھر  یہ گنجائش ہوگی کہ صبح صادق سے پہلے اذان دے دی جائے،  لیکن اس میں دو باتوں کی رعایت ضروری ہوگی:

(1) یہ پہلی اذان سحری کے لیے ہو یا سحری بند کرنے کے لیےہو اور لوگوں کو اس کی پہلے سے اطلاع بھی ہو؛  تاکہ لوگ فجر کی نماز کی اذان سمجھ کر نماز ادا نہ کرلیں۔

(2) فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد فجر کی نماز کا اعادہ کیا جائے۔

عہدِ نبوی ﷺ میں فجر کی دو اذانیں ہونے میں ائمہ احناف جہاں مختلف تطبیق دیتے ہیں ان میں سے  راجح یہ ہے کہ یہ پہلی اذان پورا سال نہیں ہوتی تھی، بلکہ صرف  رمضان میں ہوتی تھی؛ تاکہ سونے والے جاگ جائیں، اور روزہ رکھنے والے سحری کرلیں،  اور اس کے بعد وقت داخل ہونے پر دوبارہ اذان دی جاتی تھی، علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے فیض الباری میں، شرعۃ الاسلام  کے حوالہ سے نقل کیا ہے  رمضان میں دو اذانوں پر عمل احناف کے نزدیک بھی جائز ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس ضرورت کے لیے مفتی بہ قول کو ترک کرنا جائز نہیں ہے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے صرف وقت سے پہلے اذان دینے پر اکتفا کرنا درست نہیں ہے،  البتہ چوں کہ خود ائمہ احناف سے رمضان میں دو اذانوں کی گنجائش منقول ہے، اس لیے بوقتِ ضرورت اس پر عمل کیا جاسکتا ہے، اور وقت سے پہلے ایک اذان کے بعد وقت داخل ہونے کے بعد دوبارہ اذان دینا ضروری ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 385):
"(لا) يسن (لغيرها) كعيد (فيعاد أذان وقع) بعضه (قبله) كالإقامة خلافا للثاني في الفجر. 

(قوله: خلافا للثاني) هذا راجع إلى الأذان فقط، فإن أبا يوسف يجوز الأذان قبل الفجر بعد نصف الليل ح".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 154):
"وأما بيان وقت الأذان والإقامة فوقتهما ما هو وقت الصلوات المكتوبات، حتى لو أذن قبل دخول الوقت لايجزئه ويعيده إذا دخل الوقت في الصلوات كلها في قول أبي حنيفة ومحمد.
وقد قال أبو يوسف: أخيراً لا بأس بأن يؤذن للفجر في النصف الأخير من الليل، وهو قول الشافعي.
(واحتجا) بما روى سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه - رضي الله عنه - أن بلالا كان يؤذن بليل، وفي رواية قال: «لا يغرنكم أذان بلال عن السحور فإنه يؤذن بليل» ؛ ولأن وقت الفجر مشتبه، وفي مراعاته بعض الحرج بخلاف سائر الصلوات.
ولأبي حنيفة ومحمد ما روى شداد مولى عياض بن عامر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لبلال: «لا تؤذن حتى يستبين لك الفجر هكذا» ، ومد يده عرضا؛ ولأن الأذان شرع للإعلام بدخول الوقت، والإعلام بالدخول قبل الدخول كذب، وكذا هو من باب الخيانة في الأمانة، والمؤذن مؤتمن على لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولهذا لم يجز في سائر الصلوات؛ ولأن الأذان قبل الفجر يؤدي إلى الضرر بالناس؛ لأن ذلك وقت نومهم خصوصا في حق من تهجد في النصف الأول من الليل، فربما يلتبس الأمر عليهم، وذلك مكروه.
وروي أن الحسن البصري كان إذا سمع من يؤذن قبل طلوع الفجر قال: علوج فراغ لايصلون إلا في الوقت، لو أدركهم عمر لأدبهم، وبلال - رضي الله عنه - ما كان يؤذن بليل لصلاة الفجر بل لمعان أخر، لما روي عن ابن مسعود - رضي الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لايمنعنكم من السحور أذان بلال فإنه يؤذن بليل ليوقظ نائمكم ويرد قائمكم ويتسحر صائمكم، فعليكم بأذان ابن أم مكتوم» .
وقد كانت الصحابة - رضي الله عنهم - فرقتين: فرقة يتهجدون في النصف الأول من الليل، وفرقة في النصف الأخير، وكان الفاصل أذان بلال، والدليل على أن أذان بلال كان لهذه المعاني لا لصلاة الفجر أن ابن أم مكتوم كان يعيده ثانياً بعد طلوع الفجر، وما ذكر من المعنى غير سديد؛ لأن الفجر الصادق المستطير في الأفق مستبين لا اشتباه فيه".

العرف الشذي شرح سنن الترمذي (1/ 217):

"وأجيب عن حديث الباب من جانب الأحناف بأن التكرار كان للتسحير كما في كتاب الحج، وهو المتبادر من ألفاظ الصحيحين «ليرجع قائمكم، وينتبه نائمكم» ولازمه أن يكون التكرار في رمضان، وصرح الحافظ عبد الملك بن قطان المغربي الفارسي الشافعي، والحافظ تقي الدين بن دقيق العيد: بأن التكرار كان في رمضان، وفي شرعة الإسلام استحباب الأذان للتسحير في رمضان والكتاب معتبر لأن المصنف هو شيخ صاحب الهداية، وأيضا أقول: إن التكرار لم يكن مستمرا في السنة كلها وفي هذه الدعوى مادة كثيرة في معاني الآثار والزيلعي وروايات أخر عندي، ولعله كان حين كان تحريم الطعام في رمضان بفعل اختياري، ويدل على هذا أي التحريم بفعل اختياري ما في معاني الآثار ص63 عن نافع عن ابن عمر عن حفصة بسند قوي من أن النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الركعتين بعد أذان الفجر، ثم يذهب يحرم الطعام، وكان لا يؤذن حتى يصبح، ولنا في ابتداء الصوم قولان: قيل: من ابتداء طلوع الفجر، وقيل: من حين انتظار الصبح وقال: الآخرون: إن حكم الأكل إلى ما بعد الصبح منسوخ، وحملوا فعل أبي بكر الصديق حين كان يأكل فأخبر بطلوع الفجر فقال: أغلق الباب، على النسخ، وفي فتح الباري روايات موقوفة ومرفوعة دالة على ختم السحر بالفعل الاختياري".

فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 218):

"والثاني: هل يجوز الأذان قبل الوقت؟ فأجمع كلهم على أن الأذان قبل الوقت لا يجوز إلا في الفجر، فذهب الجمهور إلى جوازه في الفجر خاصة، وقال إمامنا الأعظم ومحمد رحمهما الله تعالى: إنه لا يجوز في الفجر كما في أخواته عندهم، وتمسك الجمهور بحديث ابن عمر رضي الله عنه، وعائشة رضي الله عنها في تكرار الأذان، وفيه تصريح بأن الأذان الأول كان قبل الوقت....

والرابع: أنه إن أذن قبل الوقت، فهل يجتزىء بذلك، أو يعيده في الوقت أيضا؟ فادعى الشافعية أنه يجزىء بذلك، واستبعده الحنفية، وقالوا: كيف مع ورود التكرار في متن الحديث صراحة؟ والمختار عندنا أنه لا يعتد بالأذان قبل الفجر، ويجب الإعادة في الوقت، كما في سائر الأوقات عندهم أيضاً.

والخامس: أن الأذان الأول كان للفجر، أو لمعنى آخر؟ فذهب الشافعية أنه كان للوقت كالثاني على طريق الإعلام بعد الإعلام، وادعى الحنفية أنه كان للتسحير لا للوقت. وتمسك له الطحاوي بما روي عن ابن مسعود رضي الله عنه، وهو عند مسلم أيضا: «لا يمنعن أحدكم أذان بلال، أو قال: نداء بلال من سحوره، فإنه كان يؤذن ليرجع قائمكم، ويوقظ نائمكم» ... إلخ فتبين منه أن أذان بلال إنما كان لأجل أن يرجع قائم الليل عن صلاته ويتسحر، ويستيقظ النائم فيتسحر، فهذا تصريح بكونه للتسحير لا للفجر. وأما للفجر، فكان ينادي به ابن أم مكتوم، ولذا كان ينتظر الفجر ويتوخاه.

وتحير منه الحافظ ولم يقدر على جوابه، إلا أنه قال: لا تناقض بين الأسباب، فجاز أن يكون للتسحير أيضا. ثم المذكور في حديث ابن مسعود رضي الله عنه في جميع طرقه هو الأذان الواحد فقط، ولا ذكر فيه للثاني، فحمل الحنفية الساكت على الناطق، وعجز عنه الحافظ أيضا، فإنه لا دليل فيه حينئذ على الاجتزاء بالأذان الواحد.

والسادس: أنه كان في رمضان خاصة، صرح به أحمد رحمه الله تعالى كما في «المغني» لابن قدامة، وابن القطان كما في «الفتح»، وابن دقيق العيد كما في «التخريج» للزيلعي.

والسابع: أن هذا الأذان كان بعين تلك الكلمات، أو بكلمات أخرى غير المعروفة، فذهب السروجي منا أنه كان بكلمات أخرى غير تلك الكلمات، وحمله الشافعية رحمهم الله تعالى على المعروف. فهذه سبعة مباحث.

ولعلك فهمت منها أن في استدلالهم نظر من وجوه: الأول: في ثبوت نفس التكرار، وإن سلمناه، فلنا أن نمنع كونه بكلمات معروفة، لم لا يجوز أن يكون بكلمات أخرى؟ وإن سلمناه، فلم لا يجوز أن يكون في رمضان خاصة؟ ولو سلمناه أيضا، فلم لا يجوز أن يكون الأول للتسحير لا للفجر؟ فعليهم أن يثبتوا هذه الأشياء، ودونه خرط القتاد.

قلت: لما رأيت الحنفية يتأولون بكون الأول في رمضان خاصة، تتبعت له كتب الفقه: أن المسألة عندنا هي أيضا كذلك، أو هو مجرد احتمال واحتيال، فوجدت في «شرعة الإسلام» لشيخ صاحب «الهداية»: جواز العمل به في رمضان عندنا. وحاصل هذا الجواب: أنه لا نزاع في نفس التعدد، وإنما النزاع في تعدد الأذان للفجر، ولا دليل عليه من ألفاظ الحديث، بل فيها أنه كان للتسحير، وهو جائز عندنا أيضاً".

(وکذا فی امداد الاحکام 2/109) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں