بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے کچھ عرصہ پہلے نکاح کرنے کا حکم


سوال

میرا چھوٹا بھائی جو کہ قطر میں برسرِ روزگار ہے اس کی شادی اس سال اگست میں طے ہوئی ہے۔ میرا بھائی چاہتا ہے کہ عید الفطر کے بعد نکاح کرے اور وہ نکاح نامے سمیت ضروری دستاویزات اپنی کمپنی میں جمع کرواکر ویزا لے اور اگست میں رخصتی کے  بعد دلہن کو قطر لے جائے ۔ دوسری طرف والدہ پہلے نکاح کے  بجائے اگست میں نکاح اور رخصتی کرنے کے حق میں ہیں جس سے یہ ہوگا کہ بھائی ایک ہفتے بعد واپس چلے جائیں گے اور دلہن کو ڈیڑھ سے دو مہینے یہاں سسرال میں رہنا پڑے گا۔

میرا سوال یہ ہے کہ لڑکی کو اس طرح سسرال روکنا درست ہے جب کہ اگر نکاح پہلے کرلیا جائے تو وہ فوراً اپنے شوہر کے ساتھ جا سکتی ہے۔ میں یہ بھی بتاتا چلو ں کہ ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں اور والد کے سخت رویہ کی وجہ سے آئے دن جھگڑے بھی ہوتے رہتے ہیں جس کے ہم تو  عادی ہوچکے ہیں، لیکن نیا شخص شاید ان چیزوں کو زیادہ محسوس کرے۔

برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ اور والدہ کے فیصلے کی وجہ سے دلہن یا بھائی کے حقوق پر  کوئی اثر تو نہیں پڑ رہا؟

جواب

اگر آپ کے چھوٹے بھائی نکاح جلدی کرنا چاہتے ہیں؛ تا کہ رخصتی کے فوراً بعد وہ اپنی اہلیہ کو اپنے ساتھ باہر لے جائیں تو ان کا یہ فیصلہ درست ہے، اس میں  شرعاً کوئی قباحت نہیں، باقی اگر آپ کی والدہ اس فیصلہ پر راضی نہیں ہیں تو ادب کے ساتھ  کسی طرح ان کو راضی کیا جائے؛ تا کہ تمام معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے