بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل میاں بیوی کابوس وکنار کرنا


سوال

رخصتی سے پہلے اپنی منکوحہ سے جماع یا بوس و کنار کرنا کیسا ہے؟

جواب

باقاعدہ نکاح ہوجانے کے  بعد اپنی منکوحہ سے ملنا، اس سے باتیں کرنا اور اس سے صحبت کرنا شرعاً جائز ہے۔  البتہ باقاعدہ رخصتی سے پہلے تنہائی میں ملنا اورفطری خواہش پوری کرنا عرف و معاشرے میں معیوب سمجھاجاتاہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، بسااوقات یہ بڑے فساد کاذریعہ بن جاتاہے۔

" (هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي". (فتاوی شامی، ۳/۳، سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201228

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے