بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

رتاج نام نہ رکھنا بہتر ہے


سوال

الحمداللہ اللہ پاک نے خاص رحمت سے نوازا ہے، اللہ پاک نے پھول جیسی بیٹی عطا کی ہے۔ میں بٹیی کا نام "رتاج" رکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے رتاج لفظ کا معنی بتلا دیجیے!

جواب

’’رتاج‘‘  کا معنی ہے:  بڑا دروازہ یا بنددروازہ(۶)۔نام کا اثر چوں کہ شخصیت پر ہوتا ہے، لہذا بیٹی کا کوئی اچھے معنی والا نام یا کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کے نام پر نام رکھ لینا بہتر ہے۔ تاہم اگر ’’رتاج‘‘  نام رکھ لیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔

"وفي «الفتاوى» : التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا تفعل". (المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ۵/ ۳۸۲، دار الكتب العلمية)

"ولايلزم من ترك المستحب ثبوت الكراهة، إذ لا بد لها من دليل خاص". (فتاوی شامی، ۱/۱۲۴، سعید)

"(۶) (ر ت ج) : (أَرْتَجَ الْبَابَ) أَغْلَقَهُ إغْلَاقًا وَثِيقًا عَنْ اللَّيْثِ وَالْأَزْهَرِيِّ وَفِي الْحَدِيثِ «إنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ فَلَا تُرْتَجُ» أَيْ فَلَا تُطْبَقُ وَلَا تُغْلَقُ وَفِي أَجْنَاسِ النَّاطِفِيِّ وَلَوْ كَانَ عَلَى الدَّارِ بَابٌ مُرْتَجٍ غَيْرُ مُغْلَقٍ فَدَفَعَهُ وَدَخَلَ خَفِيًّا قُطِعَ فَقَدْ جَعَلَ رَدَّ الْبَابِ وَإِطْبَاقَهُ إرْتَاجًا عَلَى التَّوَسُّعِ وَيَشْهَدُ لِصِحَّتِهِ مَا مَرَّ فِي تَفْسِيرِ الْحَدِيثِ وَالرِّتَاجُ الْبَابُ الْمُغْلَقُ وَيُقَالُ لِلْبَابِ الْعَظِيمِ رِتَاجٌ أَيْضًا أَنْشَدَهُ اللَّيْثُ". (المغرب في ترتيب المعرب (ص: ۱۸۲)دار الكتاب العربي) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200661

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے