بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

دارالافتاء

 

رات سے ہی روزہ نہ رکھنے کی نیت کر کے روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کفارے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص رمضان کے مہینے میں یہ کہے کہ "میں کل روزہ نہیں رکھوں گا"، پھر وہ شخص روزہ کھا لے اور کہے کہ  میں روزہ سردی میں رکھوں گا ،کیا اس شخص پھر کفارہ ہے کہ نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کی رات سے ہی یہ نیت ہو کہ وہ کل کا روزہ نہیں رکھے گا اور پھر وہ روزہ نہ رکھے تو اس پر اس روزے کی قضا لازم ہے، کفارہ لازم نہیں ہے۔البتہ رمضان کا روزہ جان بوجھ کر بلا کسی شرعی عذر کے چھوڑنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ ساری زندگی بھی  اس روزہ کی تلافی کے لیے روزے رکھتا رہے تب  بھی تلافی نہیں ہوگی اور رمضان کے روزے کے بقدر اجر و ثواب اور برکتیں حاصل نہیں ہوں گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 403)

"(أو أصبح غير ناو للصوم فأكل عمداً)، ولو بعد النية قبل الزوال؛ لشبهة خلاف الشافعي: ومفاده أن الصوم بمطلق النية كذلك ... (قضى) ... (فقط)".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200524


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں