بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ذاتی زمین میں چندہ کی رقم سے مدرسہ واسکول تعمیر کرنے کے بعد اسکول میں فیس لے کر تعلیم دینا


سوال

اسکول اور مدرسے ایک ساتھ بنایا ہے ، اس کے لیے زمین اپنے روپے سے خریدی ہے، مگر اس کو بنانے کے لیے لوگوں سے چندہ جمع کیا اور اپنے پاس موجود روپے بھی استعمال کیے، جو لوگوں نے دیا اس کی معلومات نہیں کہ زکوۃ ہے یا صدقہ؟ اب مدرسے میں پڑھنے والوں کا مکمل خرچہ انتظامیہ اٹھاتی ہے اور سکول میں پڑھنے والوں بچوں کا 30 سے 40 % ۔ اب آیا سکول سے ملنے والا Profit کیا انتظامیہ اپنے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق  اپنی ذاتی رقم سے خریدی ہوئی  زمین میں چندے اور کچھ  اپنی ملکیتی  رقم سے  عمارت تعمیر کی، جس میں مدرسہ اور اسکول دونوں کی تعلیم دی جاتی ہے، تو ایسی  صورت میں شرعاً  انتظامیہ کے لیے اسکول میں پڑھنے والوں بچوں سے فیس لینا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200440

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے