بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دینی کتب بغیر وضو کے چھونا اور موبائل میں قرآن مجید یا دینی کتابیں بغیر وضو کے پڑھنا


سوال

 1- کیا ہم بغیر وضو کے اسلامی کتابیں پڑھ سکتے ہیں؟ مثلاً ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘،  ’’احیاء العلوم‘‘،  ’’مکاشفۃالقلوب‘‘ اور اسی طرح دیگر کتب۔

2- اگر یہی کتابیں ہمارے موبائل فون میں pdf کی صورت میں ہوں تو اس کے بارے میں علماء کرام کی کیا رائے ہے، اگر ان کو ہم بغیر وضو کے پڑھیں؟  اور اسی طرح موبائل فون کی سکرین پر ہم جب قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں بغیر وضو کے ہم سکرین کو ہاتھ لگا سکتے ہیں؟  اس بارے میں آپ کی راہ نمائی چاہیے!

جواب

بلاوضو  اسلامی کتابیں، مثلاً ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘،  ’’احیاء العلوم‘‘،  ’’مکاشفۃالقلوب‘‘  اور اسی طرح دیگر کتب (جن میں اکثرحصہ قرآنی آیات کے علاوہ پرمشتمل ہوتاہے) کوچھونااور پڑھناجائزہے، البتہ جہاں قرآنی آیات ہوں تو خواتین کے لیے ایام کی حالت میں انہیں پڑھنااور ہاتھ لگاناجائزنہیں۔ اور بلاوضو قرآنِ کریم کی آیات  پڑھ سکتے ہیں، لیکن جہاں آیت لکھی ہواس مقام کو ہاتھ نہیں لگاسکتے۔

نیز موبائل میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے،   البتہ موبائل کی اسکرین پر اگر قرآنِ کریم  کھلا ہوا ہو تو اسکرین کو  وضو کے بغیر نہ چھوا جائے، اس کے علاوہ  موبائل کے دیگر حصوں کو  مختلف  اطراف  سے وضو کے بغیر چھونے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اگر موبائل میں دینی کتاب اسکرین پر کھلی ہو اور اس میں سامنے قرآنی آیت نہ ہو تو بلاوضو چھونا جائز ہے، قرآنی آیت سامنے ہو تو  اسے اسکرین پر بلاوضو چھونا جائز نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله:والتفسیر  کمصحف ) ظاهره حرمة المس کماهو مقتضی التشبیه، وفیه نظر؛ إذ لا نص فیه بخلاف المصحف، فالمناسب التعبیر بالکراهة، کماعبرغیره. ( قوله: لا الکتب الشرعیة) قال في الخلاصة: ویکره مس المصحف کما یکره للجنب، وکذلك کتب الأحادیث والفقه عندهما،  والأصح أنه لایکره عنده  هـ.  قال في شرح المنیة: وجه قوله: إنه لایسمی ماساً للقرآن؛ لأن ما فیها منه بمنزلة التابع ا هـ.  ومشى في الفتح على الكراهة، فقال: قالوا: يكره مس كتب التفسير والفقه والسنن؛ لأنها لاتخلو عن آيات القرآن، وهذا التعليل يمنع من شروح النحو ا هـ.  (قوله:لكن في الأشباه الخ ) استدراك على قوله: التفسير كمصحف، فإن ما في الأشباه صريح في جواز مس التفسير، فهو كسائر الكتب الشرعية، بل ظاهره أنه قول أصحابنا جميعاً وقد صرح بجوازه أيضاً في شرح درر البحار. 

 وفي السراج عن الإيضاح: أن كتب التفسير لايجوز مس موضع القرآن، وله أن يمس غيره، وكذا كتب الفقه إذا كان فيها شيء من القرآن، بخلاف المصحف؛ فإن الكل فيه تبع للقرآن ا هـ(1/176) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200278

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے