بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1440ھ- 15 نومبر 2018 ء

دارالافتاء

 

دو تولہ سونا اور چھ تولہ چاندی پر زکاۃ


سوال

جس عورت کے پاس دو تولہ سونااورچھ تولہ چاندی ہو تو اس پر زکاۃ فرض ہے یا نہیں جب کہ اس کے پاس نقدی جیب خرچی کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟

جواب

زکاۃ کے نصاب کی تفصیل یہ ہے: اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو  ساڑھے باون تولہ چاندی،  نقدی یا سامانِ تجارت ہو تو سونا یا چاندی میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر ہو ،  یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) کے برابر بنتی ہو ، اور  یہ نصاب مکمل ہونے کے بعد  اس پر سال گزر جائے یعنی سال کے دونوں اطراف میں نصاب مکمل ہو تو ایسے شخص پر زکاۃ  فرض ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جس عورت کے پاس دو تولہ سونا اور چھ تولہ چاندی ہے تو دونوں کو ملاکر اس کی رقم ساڑھے باون تولہ چاندی سے زیادہ بنتی ہے؛ لہذا سال گزرجانے کی صورت میں اس پر ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

''بدائع الصنائع '' (2/ 19) :

"فأما إذا كان له الصنفان جميعاً، فإن لم يكن كل واحد منهما نصاباً بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم، فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا ... (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة ؛ ولأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما، وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية، فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد ؛ ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال، وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202355


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں