بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دودھ، زیتون، شہد اور سرکے سے نہانا


سوال

 دودھ، زیتون، شہد  اور سرکے  سے نہانا/ غسل کرنا شرعی حیثیت سے جائز ہے یا نہیں جب کہ پانی غسل خانے سے گٹرلائن میں جاتا ہے؟

جواب

ان  اشیاء  سے  وضو  اور  غسل  کرنا  جائز   نہیں، کرلیا گیا تو بھی فرض وضو اور غسل ادا نہیں ہوگا۔ اور اگر بطورِ علاج یا جلد کی ملائمت کے لیے ان اشیاء سے نہایا جائے تو ان نعمتوں کی ناقدری ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ اشیاء کھانے اور پینے کے لیے پیدا کی ہیں، جلد کے مسائل اور طبی مقاصد کے لیے دیگر ادویات اور علاج موجود ہیں، وہ اختیار کیے جائیں۔

فتح القدير لكمال بن الهمام (1/ 123):
"( ولا) يجوز ( بماء غلب عليه غيره فأخرجه عن طبع الماء كالأشربة والخل وماء الباقلا والمرق وماء الورد وماء الزردج )؛ لأنه لايسمى ماء مطلقاً". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201038

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے