بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

دفتری اوقات میں کسی اور کام کے لیے جانا


سوال

میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ دفتر کا ڈیوٹی ٹائم نو بجے سے شام پانچ بجے تک ہے۔ ایک دینی مدرسے میں تین بجے کلاسز ہوتی ہیں ۔ کیا مجھے وہاں جانے کی اجازت ہے جب کہ میں نے ایک سال تو بہت مشکل سے پورا کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر دفتر سے جانا بھی مشکل ہے۔ جب کہ کوئی اور مدرسہ قریب ہے ہی نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دفتری اوقات میں سرکار سے اجازت کے بغیر نماز یا سرکاری کام کے علاوہ کسی اور کام کے لیے جانا درست نہیں، لہذا دفتری اوقات کے علاوہ جہاں بالغان کے لیے دینی تعلیم حاصل کرنے کا انتظام ہو، وہاں داخلہ لے لیں یا  سرکار کے مختار ذمہ داران  سے مقررہ وقت کی اجازت لے لیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200038

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے