بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

دعاؤں کی قبولیت کا وظیفہ


سوال

آیاتِ کریمہ کا کوئی وظیفہ بتادیں جس سے دعائیں جلدی قبول ہوسکے؟

جواب

آیت کریمہ" لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین" خود دعاؤں کی قبولیت کا وظیفہ ہے ، ان الفاظ کے ساتھ  دعاؤں کا قبول ہونا حدیث سے ثابت ہےرسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ:
ذوالنون ( یعنی یونس علیہ السلام ) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ کے اندر مانگی تھی (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ) جو مسلمان اپنے کسی بھی مقصد کے لیے ان کلمات کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالی اس دعا کو قبول فرماویں گے ۔( رواه الترمذي والحاكم)

باقی دعاؤں کی قبولیت کی جو شرائط احادیثِ مبارکہ میں آئی ہیں، اور جو آداب واحکام بیان کیے گئے ہیں، ان کو پورا کرنا دعاؤں کی قبولیت کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200162

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے