بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کٹوانے والی کی اذان واقامت


سوال

 (1)داڑھی منڈے کی اذان و اقامت کا کیا حکم ہے؟

(2)اگر داڑھی منڈے نے اذان کہہ دی اور اقامت کے وقت داڑھی والا بھی موجود ہے تو کیااقامت کا حق اذان دینے والے داڑھی منڈے کو ہی ہے یا کہ اس کا حق ساقط ہوگیا؟

جواب

1.جو شخص داڑھی منڈواتاہویا شرعی  مقدار سے کم کرتاہو اس کو  مؤذن بنانامکروہ  ہے۔

2.حدیث شریف کے مطابق اقامت کا مستحق وہی شخص ہے جس نے اذان دی ہو۔ اور اذان دینے والے کے لیے بھی لازم ہے کہ شریعت کالحاظ رکھنے والاہو۔ حدیث شریف کا مصداق وہی صورت ہے جب کہ اذان دینے والا شریعت کا لحاظ رکھنے والا ہو،  لہذااگرداڑھی منڈا اذان دے دے اور اقامت کے لیے باشرع آدمی موجودہو توباشرع آدمی  اقامت کا زیادہ حق دار ہوگا۔

البحرالرائق میں ہے:

’’ وذكر الشارح أن إعادة أذان المرأة والسكران مستحبة فصار الحاصل على هذا أن العدالة والذكورة والطهارة صفات كمال للمؤذن لا شرائط صحة فأذان الفاسق والمرأة والجنب صحيح حتى يستحق المؤذن معلوم وظيفة الأذان المقررة في الوقف ويصح تقرير الفاسق فيها وفي صحة تقرير المرأة في الوظيفة تردد لكن ذكر في السراج الوهاج إذا لم يعيدوا أذان المرأة فكأنهم صلوا بغير أذان فلهذا كان عليهم الإعادة وهو يقتضي عدم صحته وينبغي أن لايصح أذان الفاسقبالنسبة إلى قبول خبره والاعتماد عليه لما قدمناه من أنه لا يقبل قوله في الأمور الدينية كما صرح به الشارح ، وأما العقل فينبغي أن يكون شرط صحة فلايصحأذان الصبي الذي لا يعقل والمجنون والمعتوه أصلا ،‘‘۔(3/41)

فتاویٰ شامی میں ہے:

’’ وحاصله أنه يصح أذان الفاسق وإن لم يحصل به الإعلام أي الاعتماد على قبول قوله في دخول الوقت بخلاف الكافر وغير العاقل فلا يصح أصلا ‘‘۔(1/393)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143811200011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے