بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دادا کی وراثت میں پوتوں کا حصہ


سوال

والد کی زندگی میں اگر بیٹے کا انتقال ہوجائے تو  اس کے بچوں کو دادا کی وراثت میں سے حصہ ملے گا یا نہیں ؟

جواب

وراثت کا استحقاق مورِث کی موت کے بعد  ثابت ہوتا ہے؛  اس لیے کسی شخص کے انتقال کے وقت اس کے جو ورثاء موجود ہوں  وہی اس کے وارث ہوتے ہیں، اس کی زندگی میں فوت ہونے والے اس کے وارث نہیں بنتے ، لہذا اگر کسی بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہی ہوجائے تو اس کے بچے (اپنے چچا کی موجودگی میں) اپنے دادا کی میراث میں شرعاً حق دار نہیں ہوں گے،  ایسی صورت میں اگر پوتے ضرورت مند ہوں اور دادا کو اندازا ہوکہ میرے بعد میرے بیٹے پوتوں کو  تبرعاً کچھ نہیں دیں گے تو دادا کو  چاہیے کہ وہ ایک تہائی ترکہ کے اندر اندر پوتوں کے لیے وصیت کرجائے، لیکن اگر دادا وصیت کے بغیر انتقال کرجائے تو اس کی وراثت میں پوتوں کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ہاں اگر  مرحوم کے  بالغ ورثاء  مرحوم کےپوتوں کو اپنی رضامندی سے کچھ دے دیں تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہوگا اور ثواب کا باعث ہوگا۔
صحيح بخاري میں ہے  :

"وقال زيد: «ولد الأبناء بمنزلة الولد، إذا لم يكن دونهم ولد ذكرهم كذكرهم، وأنثاهم كأنثاهم، يرثون كما يرثون، ويحجبون كما يحجبون، ولا يرث ولد الابن مع الابن»".(8/ 151،باب میراث ابن الابن، ط: دار طوق النجاہ)

البحر الرائق   میں ہے:

"وأما بيان الوقت الذي يجري فيه الإرث فنقول: هذا فصل اختلف المشايخ فيه، قال مشايخ العراق: الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث، وقال مشايخ بلخ: الإرث يثبت بعد موت المورث".(9/346 ، کتاب الفرائض، ط: رشیدیہ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200341

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے