بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1440ھ- 17 دسمبر 2018 ء

دارالافتاء

 

خواب کی بنیاد پر اپنے نام کے ساتھ سید لگانے کا حکم


سوال

زید اور بکر دو بھائی ہیں، ان کے والد سلسلہ نقشبندیہ کے صاحبِ مجاز بزرگ تھے، زید اور بکر بھی دین دار اور صاحبِ نسبت ہیں۔ زید نے خواب میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت کی ، آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے نسب سے ہو، زید نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مناسب سمجھیں تو مجھے شجرہ نسب لکھوادیں، تاکہ لوگوں کو بتانے میں آسانی ہو، آپ صلی علیہ وسلم مسکرا کر خاموش ہوگئے اور زید کی آنکھ کھل گئی۔  زید نے یہ خواب اپنے والد سے بیان کیا تو انہوں نے خوشی کا اظہار کیا، مگر اپنے نام کے ساتھ "سید " لفظ کا اضافہ نہیں کیا ، اس خواب کے بعد زید کے والد 10 سال حیات رہے، مگر انہوں نے کبھی بھی اپنے لیے "سید "کے لفظ کا نہیں کہا ، نہ ہی زید نے اپنے نام کے ساتھ "سید " کا لفظ استعمال کیا، والد کی وفات کے بعد زید اور ان کے بچوں نے اپنے نام کے ساتھ "سید "کے لفظ کا استعمال شروع کردیا، جب کہ بکر نے اس پر اعتراض کیا، بکر کے نزدیک خواب کی بنا پر ذات تبدیل نہیں ہو سکتی، سوال یہ ہے کہ زید اور اس کی اولاد کا خود کو "سید " کہنا کیسا ہے؟  کیا بکر کی اولاد بھی خود کو "سید " کہہ سکتی ہے ؟ کیا خواب کی بنا پر ذات تبدیل ہو سکتی ہے؟

جواب

بکر کا موقف درست ہے، خواب حجتِ شرعیہ نہیں ہے، اس کی بنیاد پر غیر سید کے لیے اپنے نام کے ساتھ "سید"  کا لاحقہ لگانا صحیح نہیں، بلکہ نسب کا ثبوت محفوظ ومعتمد ثابت شدہ شجرہ نسب یاعام شہرت سے ہوتاہے۔  نیز غیر سید کا خود کو سید کہنا جھوٹ اور دھوکا دہی ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143905200065


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں