بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1440ھ- 27 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

خنثی مشکل کی میراث کا حکم


سوال

خنثی مشکل کی میراث کا کیا حکم ہے؟

جواب

خنثیٰ وہ فرد ہے جس میں مذکرو مؤنث دونوں جنس کی علامات پائی جائیں ۔ایسے فرد کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر وہ  بالغ ہونے سے پہلے لڑ کے کی طرح پیشاب کرے ،یا اگر بالغ ہونے کے بعد اس کی داڑھی نکل آئے یا عورت سے ہم بستری کے قابل ہوجائے یا مردوں کی طرح اسے احتلام ہونے لگے تو وہ مرد شمار ہوگا، اور اس کے احکام لڑکوں والے ہوں گے اور میراث میں بھی اسے لڑکے کی مانند حصہ دیا جائے گا۔

 اوراگروہ فردبالغ ہونے سے قبل  لڑکی کی طرح پیشاب کرے  یا اگربلوغت کے بعد  اس کا سینہ نکل آئے یاحیض آنے لگے تو اس پر عورت کے احکام مرتب ہوں گے ۔ اور میراث میں بھی اسے لڑکی کی مانند حصہ دیا جائے گا۔

اور اگر کوئی علامت بھی ظاہر نہ ہو یا یہ علامات باہم متعارض ہوں اور  پہچان مشکل ہو توپھر وہ خنثیٰ مشکل کہلاتاہے، یعنی جب تک لڑکا یا لڑکی میں سے کسی ایک جانب رجحان پایا جائے تو اسے اسی جنس کے ساتھ ملحق کردیاجائے گا، بالفرض رجحان کی کوئی صورت نہ ہو اور دونوں کی علامات یکساں ہوں(اور ایسا شاذ ونادر ہی ہوتاہے)  تب اسے خنثیٰ مشکل کہاجائے گا۔ 

چوں کہ  خنثیٰ مشکل کا عورت یا مرد ہونا یقینی نہیں ہوتا؛ اس  لیے اس سے متعلق وراثت کے احکام ذکرکرتے ہوئے فقہاء کرام نے احتیاط سے کام لیا ہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک خنثی مشکل کو میراث کے حصہ میں سے کم تر حصہ دیاجائےگا۔ یعنی مذکرشمار کرنے کی صورت میں کم حصہ ملتا ہے تو مذکر شمار کیا جائے اور اگر مؤنث  شمار کیے جانے کی ہونے کی صورت میں کم حصہ ملتا ہے تو مؤنث شمار کریں۔اور اسی میں احتیاط ہے۔مثلاً: ایک شخص کاانتقال ہوااور اس نے ورثاء میں خنثی مشکل اور ایک بیٹاچھوڑا ہے تو خنثی کو وراثت میں ایک حصہ اور بیٹے کو دو حصے ملیں گے، اور اگر کسی نے ورثہ میں ایک بیٹی اور ایک خنثیٰ مشکل چھوڑا تو دونوں کو برابر ملے گا۔''فتاوی ہندیہ'' میں ہے:

''إذا كان للمولود فرج وذكر فهو خنثى ، فإن كان يبول من الذكر فهو غلام وإن كان يبول من الفرج فهو أنثى ، وإن بال منهما فالحكم للأسبق وإن استويا فمشكل ، وإن كانا في السبق سواء فلا معتبر بالكثرة ، فإذا بلغ الخنثى وخرجت لحيته أو وصل إلى النساء فهو رجل ، وكذا إذا احتلم كما يحتلم الرجل أو كان له ثدي مستو ولو ظهر له ثدي كثدي المرأة أو نزل له لبن ثديه أو حاض أو حبل أو أمكن الوصول إليه من الفرج فهو امرأة ، وإن لم تظهر له إحدى هذه العلامات أو تعارضت هذه المعالم فهو خنثى مشكل ، كذا في خزانة المفتين والأصل فيها أن أبا حنيفة رحمه الله تعالى يعطيه أخس النصيبين في الميراث احتياطاً فلو مات أبوه وتركه وابناً فللابن سهمان وله سهم ، ولو تركه وبنتاً فالمال بينهما نصفين فرضاً وردا .''۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200839

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے