بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1440ھ- 23 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

خصی کرتے ہوئے جس جانور کے خصیتین یا آلہ تناسل کٹ جائے اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟


سوال

اگر کسی جانور کو خصی کرتے وقت اس کا  آلۂ تناسل یا خصیتین بالکل کٹ جائیں تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر جانور کو خصی کرتے ہوئے اُس کے خصیتین اور آلہ تناسل کٹ جائیں، تو اس کی قربانی جائز ہے۔ فتاوی شامی میں ہے :

"تجوز التضحیة بالمجبوب العاجز عن الجماع".  ( رد المحتار، كتاب الأضحية، ٩/ ٤٧٠، ط: دار عالم الكتب ) 

اگر مقطوع الذکر جانور کے علاوہ کوئی جانور بسہولت میسر ہو تو اس کی قربانی زیادہ بہتر ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے