بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1440ھ- 22 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

خدمت گزار نواسوں کا نانا کی میراث میں حصہ نہیں


سوال

نانا کے مال میں نواسوں کا حصہ بنتا ہے؟ نانا کی ایک ہی اولاد ہے وہ ہماری والدہ ہیں،  نانا کے سوتیلے بہن بھائی بھی ہیں۔ نانا کا کاروبار گھر وغیرہ تمام نواسے سنبھالتے ہیں۔ نانا کی حیاتی میں بھی اور انتقال کے بعد بھی۔ نواسے شروع سے نانا کے ساتھ رہتے ہیں اور نانا بولتے تھے منہ زبانی یہ سب تمہارا  ہے،  نانا کے بھائی بہن سب الگ رہتے ہیں۔نانی اور ہماری والدہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔ کیا ان کی میراث میں نواسوں کا حصہ ہوگا؟

جواب

نانا نے اگر صرف زبانی طور پر کہا کہ یہ سب تمہارے حوالہ ہے اورعملاً سب چیزیں نواسوں کی ملکیت میں نہیں دی تھیں تو مذکورہ تمام اشیاء نانا کی میراث ہیں، جو ان کے ورثاء میں تقسیم ہوں گی۔ ترکے کی تقسیم ان کے ورثاء کی تعداد بتاکر معلوم کی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008202072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے