بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

دارالافتاء

 

حیات انبیاء کے منکر کی امامت اور اس کے ساتھ تعلقات رکھنا


سوال

جو شخص حیا ت النبی کے عقیدے کا منکر ہو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اسی طرح ایسے امام کے مقتدیوں کے ساتھ تعلق رکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 حیات الانبیاء سے متعلق جمہور اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام اپنی قبورِ مبارکہ میں زندہ ہیں، اور ان کی حیات دنیوی حیات کے مماثل بلکہ اس سے بھی قوی ہے، اور دیگر تمام لوگوں کی حیات سے انبیاءِ کرام علیہم السلام کی حیات ممتاز ،اعلیٰ اور اورفع ہے، اور  وہ سب اللہ رب العزت کی ذات وصفات کے مشاہدہ میں مشغول ہیں ،  اور مختلف قسم کی عبادات میں مشغول ہیں ، یہ ضروری نہیں ہے کہ سب نمازوں میں مشغول ہوں گے،  بلکہ ممکن ہے کہ کسی کو یہ مشاہدہ بصورتِ نماز ہوتا ہو اور کسی کو بصورتِ تلاوت ہوتا ہو اور کسی کو اور طریقہ سے، لہذا سب  مشاہدہ باری تعالیٰ میں ہیں ۔ (شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام للسبکی، ص 206)  البتہ عالمِ برزخ میں انبیاءِ کرام علیہم السلام کی عبادات مکلف ہونے کے اعتبار سے نہیں ہیں، بلکہ  بلا مکلف ہونے کے صرف تلذد اور لذت حاصل کرنے کے لیے ہیں۔(ایضاً)

جو شخص حیات الانبیاء کا منکر ہو وہ اہلِ سنت سے خارج ہے، ایسے شخص کی امامت میں نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، امامت کے جلیل الشان منصب کے لیے  صحیح العقیدہ افراد کا انتخاب کیا جانا ضروری ہے۔ نیز  ایسے شخص سے  تعلق رکھنےسے اس کی اصلاح کی امید ہوتو تعلق رکھا جائے اور بالخصوص اہلِ علم ان کی راہ نمائی کریں؛ تاکہ وہ اپنے اس عقیدہ سے توبہ تائب ہوجائے، اور اگر اس سے تعلق نہ رکھنے سے اس کی اصلاح کی امید ہو یا مقتدی اہلِ علم نہ ہوں اور ان سے تعلق رکھنے میں ان کا اپنا عقیدہ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسے شخص سے تعلق نہ رکھا جائے۔

مذکورہ امام کے مقتدیوں کا بھی اگر یہی عقیدہ ہو تو ان کا حکم بھی یہی ہوگا، لیکن اگر مقتدی کا عقیدہ درست ہو تو اس کے ساتھ تعلق قطع نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ جب تک کسی شخص کے عقائد ونظریات کے بارے میںیقینی ذرائع سے کوئی بات پایہ ثبوت کو نہ پہنچے یا وہ شخص خود صراحت نہ کرے، عمومی اشارات یا مبہم باتوں سے استدلال کرکے کسی شخص کا کردار مجروح کرنا شرعاً ہر گز روا نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200153


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں