بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حق دار کی رقم کو اس کے کسی کام میں صرف کرنا


سوال

فتوی نمبر : 143809200003 میں یہ بات سامنے آئی کہ رقم واپس کی جائے اگر یہ رقم میں خود کسی جگہ پر خرچ کروں (یعنی مجھے سرکاری رقم سے جو کام کرنا ہو)  بجائے رقم کی واپسی کے میں خود اس کو خرچ کرسکتاہوں سرکاری کام میں خرچ کرلو ں یا ضرور اس کو واپس کرنا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سرکاری ادارے کی جس قدر رقم آپ کو واپس کرنی ہے وہ  اگر براہِ راست ان کو پہنچانا مشکل ہو تو کسی بھی طریقہ سے سرکاری خزانہ میں رقم جمع کرانے سے آپ بری ہوجائیں گے۔ اس کو اپنے کام کے لیے یا سرکار کے دوسرے کام کے لیے ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا درست نہیں ہوگا، ہاں اگر کوئی سرکاری کام ان کے حکم سے آپ کو کرنا ہو اور آپ اس کام کے پیسے ان سے لینے کے بجائے اس رقم کو اس میں استعمال کرلیں تو اس کی گنجائش ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200533

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے