بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر جنت اور جہنم کو ایک ساتھ کیسے دیکھا؟


سوال

جب ہمارے پیارے نبی ﷺ معراج پر گئے تھے تو وہاں ایک ساتھ جنت اور جہنم کو کیسے دیکھا، یعنی عذاب اور جزا ایک ساتھ ؟  یہ سوال مجھ سے کسی نے پوچھا ہے۔ 

جواب

معراج کا پورا سفر ہی ایسا ہے جسے انسانی عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو عقل اسے سمجھنے سے قاصر ہے ، رات کے صرف ایک حصہ میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس جانا، نماز میں انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت کرنا ،پھر وہاں سے آسمانوں تک تشریف لے جانا، انبیاء کرام سے ملاقات اور پھر اللہ جل شانہ کے دربار میں حاضری، جنت ودوزخ کو دیکھنا، مکہ مکرمہ تک واپس آنا اور واپسی پر قریش کے ایک تجارتی قافلہ سے ملاقات ہونا جو ملک شام سے واپس آرہا تھا۔نیز معراج کے اس اہم وعظیم سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت ودوزخ کے مشاہدہ کے ساتھ مختلف گناہ گاروں اور اہلِ جنت کے احوال بھی دکھائے گئے۔

 اب جنت وجہنم ایک ساتھ دیکھے یا یکے بعد دیگرے، اس کی تفصیل نہیں ملتی، لیکن روایات میں واقعہ معراج کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ ہی نقل کیا جاتا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مناظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالترتیب دیکھے تھے۔ بالفرض ایک ساتھ بھی دیکھا ہو تو یہ کوئی بعید یا ناممکن امر  نہیں ہے،  دنیا میں انسانی آنکھ کتنی ہی متضاد چیزوں کو  اپنی طائرانہ نگاہ میں بیک وقت دیکھ لیتی ہے۔ایک ہی نظر میں ہم سامنے رکھے پانی اور آگ کو دیکھ لیتے ہیں تو جس اللہ نے معراج کا سفر کرایا اس حال میں کہ اپنے حبیب کے لیے  اس وسیع وعریض دنیا کو لپیٹ دیا، آسمان وزمین کے درمیان کی کئی برس کی مسافت کو لمحوں میں طے کرادیا  تو اس اللہ  کے لیے کیا مشکل ہے کہ پوری کائنات اپنے حبیب کے سامنے ایسے کردی ہو ،جیسے پلیٹ میں رکھی کئی چیزیں؟ پھر   جنت اور جہنم  کا محل وقوع ایک تو نہیں ہے کہ ان  ایک ساتھ دکھنے سے سزا وجزا کا اجتماع لازم آرہا ہو،  کئی روایات میں یہ ذکر ہے کہ جنت آسمانوں مٰیں اور جہنم سمندروں کی تہہ میں ہے۔ (شرح العقائد النسفیۃ،،حاشیہ۹،ص۱۰۵) 

 ہمیں اس واقعہ کو اپنی ناقص عقلو ں کے ترازو پر تولنے کے بجائےاس کے مقاصد پر غور کرنا چاہیے اور اس سے حاصل ہونے والی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے،   تاریخ کے اس بے مثال واقعہ کے من جملہ مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہےہم اُن گناہوں سے بچیں جن کے ارتکاب کرنے والوں کا برا انجام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر امت کو بیان فرمایا، خواہ ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے،  یہی وہ واقعہ ہے جس کوکفار مکہ نے اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھا اور ان کو سمجھ نہ آیا اور انکار کر بیٹھے  اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے  کہ کیا تم اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ عجیب باتوں کی تصدیق کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آسمانوں سے آپ کے پاس خبرآتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کا لقب صدیق پڑ گیا۔ اس لیے اس واقعہ کے مقاصد پر غور کریں اپنی عقل پر اس کو نہ پرکھیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143901200026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے