بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے کا حکم


سوال

 جو شخص حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا کہے، اور سب و شتم کرے اس شخص کے ایمان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہنا اور سب و شتم کرنا نفاق کی علامت ہے حدیث شریف میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: علی سے منافق محبت نہیں رکھتا اور (کامل) مؤمن علی سے بغض اور دشمنی نہیں رکھتا۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے علی کو برا کہا اس نے درحقیقت مجھ کو برا کہا، لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والا اور ان کو سب و شتم کرنے والا شخص بڑا فاسق و فاجر  اور اہل سنت و الجماعت سے خارج ہے۔

مشكاة المصابيح (3/ 1722)

''عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحب علياً منافق ولا يبغضه مؤمن» . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب إسناداً''۔

''وعنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سب علياً فقد سبني» . رواه أحمد''۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200689

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے