بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کالقب حمیراء


سوال

مشہورہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکالقب حمیراء ہے،کیایہ درست ہے؟

جواب

کتب احادیث میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے منقول بعض روایات میں آپ کالقب ’’حمیراء‘‘ثابت ہے۔چنانچہ ’’سنن ابن ماجہ‘‘ میں کتاب الرھون ،باب المسلمون شرکاء فی ثلاث کے تحت ایک حدیث میں ہے کہ:سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’.....حمیراء جس شخص نے کسی کوآگ دی تواس نے گویاوہ تمام چیزیں بطورصدقہ دیں جواس آگ پرپکائی گئیں،اسی طرح جس نے کسی کونمک دیا گویااس نے وہ تمام چیزیں بطورصدقہ دیں جنہیں اس نمک نے ذائقہ داربنایااورپانی کی اہمیت توتم جانتی ہو.....الخ‘‘۔اس حدیث کوسنن ابن ماجہ ہی کے حوالہ سے صاحب مشکوۃ نے بھی ’’باب احیاء الموات والشرب‘‘کے ذیل میں نقل کیاہے۔اسی طرح سنن الکبری للنسائی ،سنن الدارقطنی اورالمستدرک علی الصحیحین للحاکم میں بھی بعض احادیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکالقب ’’حمیراء‘‘مذکورہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143704200024

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے