بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

حالت نزع میں مبتلا شخص کو تلقین اور اس کے پاس سورۂ یاسین کی تلاوت


سوال

حالتِ نزع کے وقت انسان کے پاس کون سی سورہ پڑھی جائے کہ جو مسنون ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص حالتِ نزع میں ہو  تو سنت یہ ہے کہ اس کو  قبلہ کی طرف متوجہ کرکے لٹادیا جائے، بشر ط یہ کہ اس سے اس کو تکلیف نہ ہو ورنہ اسی طرح چھوڑدیا جائے، اور اس کے قریب اس کے رشتہ دار کلمہ طیبہ / کلمہ شہادت کی تلقین کریں،تلقین کا مطلب یہ ہے کہ مرنے والے کے پاس خود  کلمہ پڑھتے رہیں کہ جسے سن کر نزع میں مبتلا شخص  خود کلمہ پڑھ لے، لیکن اس کو کلمہ پڑھنے کا حکم نہ دیا جائے، اور اس کے قریب سورۂ یاسین کی تلاوت کی جائے۔

سنن أبي داود (3/ 191):
"عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَءُوا يٰس عَلَى مَوْتَاكُمْ». وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْعَلَاءِ".
الفتاوى الهندية (1/ 157):
" إذا احتضر الرجل وجه إلى القبلة على شقه الأيمن وهو السنة، كذا في الهداية. وهذا إذا لم يشق ترك على حاله، كذا في الزاهدي ... ولقن الشهادتين، وصورة التلقين أن يقال عنده في حالة النزع قبل الغرغرة جهراً وهو يسمع: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً رسول الله، ولا يقال له: قل، ولايلح عليه في قولها؛ مخافة أن يضجر، فإذا قالها مرةً لايعيدها عليه الملقن إلا أن يتكلم بكلام غيرها، كذا في الجوهرة النيرة ... وحضور أهل الخير والصلاح مرغوب فيه ويستحب قراءة سورة يس عنده، كذا في شرح منية المصلي لابن أمير الحاج، ويحضر عنده من الطيب، كذا في الزاهدي، ولا بأس بجلوس الحائض والجنب عنده وقت الموت، كذا في فتاوى قاضي خان". 
فقط واللہ اعلم
 


فتوی نمبر : 144007200027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں