بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جیز کیش اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے پیسے وصول ہونے پر کمپنی کی طرف سے بطور بیلنس ملنے والے ۱۵۰۰ روپے کا حکم


سوال

بیرون ملک سے رقم جیز کیش اکاؤنٹ میں وصول کرنے پر کمپنی 1500 روپے بطور بیلنس فراہم کرتی ہے،  کیا یہ رقم جائز ہے؟

جواب

’’جیز کیش اکاؤنٹ‘‘  کھلوانے اور اس میں پیسے رکھنے کی حیثیت قرض کی ہے، گویا اکاؤنٹ کھلوانے والا کمپنی کو قرض دے رہا ہے، اور شرعاً قرض دینے والے شخص کے لیے قرض کی وجہ سے ملنے والے نفع سے استفادہ کرنا (فائدہ اٹھانا) جائز نہیں ہے، لہٰذا اگر ’’جیز کیش اکاؤنٹ‘‘  میں رقم ڈالے جانے کی وجہ سے (چاہے اندرون ملک سے ڈالی جائے یا بیرون سے) کمپنی کی طرف سے کوئی نفع ( مثلاً ۱۵۰۰ روپے بطورِ بیلنس ) دیا جاتا ہو تو یہ قرض کی بنیاد پر حاصل ہونے والا مشروط نفع ہونے کی وجہ سے سود میں داخل ہوگا اور اس اضافی نفع ( یعنی ۱۵۰۰ روپے کے بیلنس ) کا استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔

البتہ اگر بیرونِ ملک سے موبائل سم میں بیلنس ڈلوانے ( لوڈ کروانے ) کی وجہ سے جو ۱۵۰۰ روپے بطورِ بیلنس کے کمپنی کی طرف سے دیے جاتے ہیں تو ان کا استعمال کرنا جائز ہوگا، کیوں کہ موبائل سم میں بیلنس ڈلوانے کی حیثیت قرض کی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طرح سے اجارہ کا معاملہ ہے، اس لیے سم میں لوڈ  ڈلوانے کی وجہ سے ملنے والے نفع کو قرض کی بنیاد پر حاصل ہونے والا مشروط نفع نہیں کہا جائے گا۔

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166):

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام.

(قوله: كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً".

نوٹ :جیز کیش اکاؤنٹ کھلوانے کا مقصد رقم کی منتقلی ہو یا موبائل میں ری چارج وغیرہ کرنا، اگر اس اکاؤنٹ کھلوانے  یا اس میں رقم رکھنے پر  کمپنی کوئی مشروط نفع (مثلاً: فری منٹس، انٹرنیٹ ایم بی ، میسج وغیرہ) نہ دیتی ہو تو  اس حد تک اس اکاؤنٹ کااستعمال درست ہوگا،لیکن  اگر  کمپنی  اکاؤنٹ ہولڈر کو اس مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر  یومیہ فری منٹس اور میسیجز وغیرہ کی سہولت فراہم کرتی ہے تو چوں کہجیز کیش اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا درحقیقت  قرض ہے، اور  قرض دینا تو فی نفسہ جائز ہے، لیکن کمپنی اس پر جو  مشروط منافع دیتی  ہے، یہ  شرعاً ناجائز ہے؛ اس لیے کہ قرض پر شرط لگا کر نفع  کے لین دین  کو نبی کریم ﷺ نے سود قرار دیا ہے۔ (مصنف بن أبی شیبہ، رقم:۲۰۶۹۰ )اور   چوں کہ اس صورت میں  مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز سودی معاہدہ کےساتھ مشروط ہے ؛ اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا ہی جائز نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ عموماً ’’ جیز کیش اکاؤنٹ‘‘دوسری صورت کا ہوتاہے ؛ لہٰذا ایسا اکاؤنٹ کھلوانا  جائز نہیں  ہوگا، البتہ اگر کمپنی پہلی صورت کے مطابق ''جیز کیش اکاؤنٹ '' کی سہولت دے تو ایسا اکاؤنٹ کھولنے اور اس کے استعمال کی اجازت ہوگی۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200800

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے