بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جہیز کے بقدر وراثت سے حصہ کاٹنا


سوال

اگر والدین اپنی زندگی میں حسبِ  توفیق اپنی بیٹی کو اس کی شادی پر جہیز دیں تو کیا وہ جہیز پر لگنے  والی  رقم اس لڑکی کے والد کی وفات کے بعد اس کی وراثت میں سے کاٹ سکتے ہیں؟ یعنی کہ اگر یہ کہا جائے کہ بیٹی/بہن کو جہیز دے دیا تو وراثت میں سے کاٹ کر دیں گے،  تو کیا یہ درست ہے اسلام میں؟ کیوں کہ جہیز تو والد کی زندگی میں دیا گیا ہے اور وراثت تو والد کی وفات کے بعد ہوتی ہے!

جواب

واضح رہے کہ بیٹی  یا  بہن  کو دیا جانے والا جہیز  والد یا بھائی کی طرف ے ہدیہ ہوتا ہے اور وراثت کا حق مورث (وفات پانے والے) کے انتقال کے بعد ہوتا ہے؛  لہذا جہیز کے بقدر وراثت سے حصہ کاٹنا ناجائز ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 327):
" لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها، وعليه الفتوى".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201243

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے