بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1440ھ- 19 مارچ 2019 ء

دارالافتاء

 

جھگڑے کے وقت قرآنی حکم صبر کی تلقین کے جواب میں صبر کرنے سے انکار کا حکم


سوال

بیوی قرآن کی تلاوت کر رہی تھی اور شوہر سے کسی بات پر غصہ آگیا، اب شوہر نے قرآن کی ایک آیت کی طرف اشارہ کر کے کہا : دیکھو اللہ نے صبر کرنے کو کہا ہے تو تم بھی صبر کرو، جس پر بیوی نے غصہ کی حالت میں کہا: " میں صبر نہیں کرتی"۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسے کہنے سے بیوی قرآن کی آیت کے انکارکی مرتکب ہوکر ایمان سے تو محروم نہیں ہوئی ؟ اور کیا اس سے نکاح تو نہیں ٹوٹ گیا؟ بندہ بہت پریشاں ہے، جواب جلد عنایت فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ بیوی نے قرآن میں مذکور ایک حکم پر عمل کرنے سے انکار کیا ہے، قرآن کی آیت اور حکم کا انکار نہیں کیا ہے، اس لیے اس جملہ ’’میں صبر نہیں کرتی‘‘ سے بیوی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سے نکاح ٹوٹا ہے۔نیز ہر وقت ہر معاملہ میں صبر کرنا (اگرچہ مستحب ہو) لیکن فرض نہیں ہوتا، اور بظاہربیوی نے کسی خاص معاملہ ( جو دونوں کے درمیان تنازعہ کا سبب تھا) پر صبر کرنے سے انکار کیا تھا، مطلقاً صبر کا انکار مقصود نہیں تھا۔ 

البتہ پھر بھی آئندہ کے لیے اس طرح کے جملے کہنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔ نیز جب دینِ اسلام کا کوئی حکم پیش کیا جائے تو مسلمان کو اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200350


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں