بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جنازے کے بعد اجتماعی دعا اور قدم گننا


سوال

1.  اس دن ایک فوتگی ہوئی، ہم نے جنازہ پڑھایا اور قبرستان کی طرف جا رہے تھے،  اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہا کہ آپ نے جنازے کے بعد اجتماعی دعا نہیں کرائی،  میں نے اس کو بہت سمجھایا کہ قرآن حدیث سے ثابت کرو،  آگے سے کہنے لگا کہ یہ ہمارا رواج ہے،  ہم لوگ 50 سال سے یہ کر رہے ہیں تو اجتماعی دعا کے بارے میں بتائیں مع دلائل۔ 

2. نیز میت کی چارپائی اٹھا کے جو قدم گنتے ہیں اس کی شرعی حیثیت بتائیے گا؟

جواب

1. جنازہ کی نماز خود دعا ہے اور اس میں میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ہی اصل ہے، جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا قرآن و سنت، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے؛  اس لیے جنازہ کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنامکروہ و ممنوع اور بدعت ہے، ہاں انفرادی طور پر ہاتھ اٹھائے بغیر دل دل میں دعا کرنا جائز ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 1213):

"ولايدعو للميت بعد صلاة الجنازة؛ لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة".

خلاصة الفتاویٰ (۱ ؍ ۲۲۵ ) رشیدیة:

"لایقوم بالدعاء في قراءة القرآن لأجل المیت بعد صلاة الجنازة".

فتاویٰ محمودیہ (۸؍۷۰۸ ، ۷۱۰ ) ادارۃ الفاروق:

’’نماز جنازہ خود دعا ہے، اس کے بعد وہیں ٹھہر کر دعا کرنا جیسا کہ بعض جگہ رواج ہے شرعاً  ثابت نہیں، خلاصۃ الفتاویٰ میں اس کو مکروہ لکھا ہے۔

فقہاء نے نمازِ جنازہ سے فارغ ہوکر بعد سلام میت کے لیے مستقلاً  کھڑے ہو کر دعا کرنے سے منع فرمایا ہے، فقہ حنفی کی معتبر کتاب "خلاصۃ الفتاویٰ"  میں اس کو منع کیا ہے، اس دعا کا نیک کام ہونا کیا حضور ﷺ ، خلفائے راشدین، ائمہ مجتہدین وغیرہ کو معلوم نہیں تھا؟ آج ہی منکشف ہوا ہے؟ ‘‘

2. جنازہ میں قدم شمار کرنے سے متعلق ایک حدیث منقول ہے کہ جس نے کسی مسلمان کے جنازے کو چالیس قدم تک اٹھایا تو اس کے چالیس بڑے گناہ معاف ہوں گے، فقہاء نے اس کی یہ صورت ذکر کی ہے میت  کے  تختہ کے چاروں پائے کے ساتھ دس دس قدم چل لے، اس طور پر کہ پہلے میت کے دائیں ہاتھ والے پائے کو اپنے دائیں کندھے  پر رکھ کر دس قدم، پھر میت کے دائیں پاؤں والے پائے کو اپنے دائیں کندھے پر رکھ کردس قدم، اور اس کے بعد میت کے بائیں ہاتھ والے پائے کو اپنے بائیں  کندھے پر رکھ کر دس قدم اور پھر میت کے بائیں پاؤں والے پائے کو اپنے بائیں کندھے پر رکھ کر دس قدم چلے، یہ مستحب ہے۔

" ثم اعلم أن في حمل الجنازة شیئین، نفس السنة وکمالها، أما نفس السنة: هي أن یأخذ بقوائمها الأربع علی طریق التعاقب بأن یحمل من کل جانب عشر خطوات. جاء في الحدیث: من حمل جنازةً أربعین خطوةً کفرت له أربعون کبیرةً." (الفتاوی التاتارخانیة، کتاب الصلاة، الفصل الثاني والثلاثون في الجنائز، حمل الجنازة زکریا ۳/۳۴، رقم:۳۶۶۸)
"سمعت أنس بن مالک قال: قال رسول الله  صلی الله  علیه وسلم: من حمل جوانب السریر الأربع کفر الله  عنه أربعین کبیرةً ". (المعجم الأوسط للطبراني، دارالفکر ۴/۲۵۹، ۲۶۰، رقم:۵۹۲۰)

واضح رہے کہ مذکورہ طریقے کے مطابق جنازے کو چالیس قدم اٹھانا مستحب ہے، اگر کوئی شخص کم زوری یا کسی وجہ سے چالیس قدم تک جنازہ نہ اٹھاسکے، یا کسی وجہ سے چالیس سے زیادہ قدم اٹھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، چالیس قدم سے کم اٹھانے والے کو کم ہمت کہنا یا معیوب سمجھنا بھی درست نہیں ہے۔ باقی جنازہ  اُٹھاتے وقت بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ چالیس قدم تک گنے جاتے ہیں اور میت کو اس کا ثواب پہنچایا جاتا ہے؛ اس طرح قدم گننے اور ان کا ثواب پہنچانے کا شرعاً  کوئی ثبوت نہیں، یہ رسم واجب الترک ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201003

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے