بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن عصر کے بعد اسی(۸۰) مرتبہ پڑھا جانے والا درود شریف (ثبوت و تحقیق)


سوال

جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد 80 مرتبہ جو درودشریف پڑھا جاتا ہے کیا یہ  پڑھنا صحیح ہے؟ اس درودشریف کو عام دن میں چلتے پھرتے پڑھ سکتے ہے؟ اور کوئی درودشریف بتادیں جو چلتے پھرتے پڑھ سکوں۔

جواب

جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد یہ درود شریف

’’  أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ‘‘

اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھنا  صحیح اور ثابت ہے، اس عمل کی فضیلت اور اس کے ثبوت کے دلائل  آگے ذکر کیے جارہے ہیں، اس درود شریف کو عام دن میں بھی چلتے پھرتے بھی پڑھ سکتے ہیں،  سب سے افضل درود شریف درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے، اس لیے آپ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ،ہر وقت اس درود شریف کو پڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کسی مختصر درود شریف  مثلاً ’’ اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد‘‘اور ’’صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کو بھی اپنا معمول بنا سکتے ہیں۔

جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھے جانے والے درود شریف کی فضیلت اور ثبوت:
رسول اللہ  کی خدمت میں صلاۃ وسلام پیش کرنا افضل ترین عبادت اور دربارِ خداوندی میں قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔ صلاۃ وسلام کے مختلف طریقے و صیغے ہیں جن کا احادیثِ مبارکہ میں ذکر ملتا ہے، اس پر محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔ درج ذیل درود شریف اکابر علماءِ  کرام اور مشائِخ عظام کے معمول میں سے ہے، جسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ نے ’’فضائل درود شریف‘‘ میں نقل کیا ہے اور اکثر اسی کتاب کے حوالے سے اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔حدیث مبارک ہے:

’من صلّٰی صلاةَ العصر من یوم الجمعة فقال قبل أن یقوم من مکانه : أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عامًا، وکتبت له عبادة ثمانین سنةً.‘‘    (القول البدیع، ص:۳۹۹، ط:دارالیسر)

’’جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے یہ درود شریف اَسّی(۸۰)مرتبہ پڑھے:

’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیماً‘‘.

اس کے اَسی(۸۰)سال کے گناہ معاف کردیےجاتے ہیں اور اَسی (۸۰)سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔‘‘

ذیل میں اس حدیث کی علمی و فنی تحقیق پیش کی جاتی ہے۔ ہماری زیرِ بحث حدیث میں جمعہ کے دن عصر کے بعد خاص درود شریف پڑھنے پر۸۰؍ سا ل کے گناہ کی معافی اور۸۰؍ سال کی عبادت کی بشارت ہے۔ذخیرہ احادیث میں اس قسم کی دو موقوف روایات ملتی ہیں:

پہلی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے جوابھی ذکر کی گئی۔ دوسری روایت حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں:

’’وعن سهل بن عبداللّٰه ؓ قال:من قال في یوم الجمعة بعد العصر: ’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي و علی أٰله وسلم‘‘ ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عاماً.‘‘

ان دو روایات میں تین فرق ہیں:

 ۱:۔۔۔۔۔ پہلی روایت میںـ’’قبل أن یقوم من مکانہٖ‘‘ کے الفاظ ہیں، جب کہ دوسری اس سے خالی ہے۔

 ۲:۔۔۔۔۔ اسی طرح پہلی میں ’’وسلم تسلیما‘‘ ہے، جب کہ دوسری روایت میں ’’تسلیما‘‘  کا لفظ نہیں ہے۔

 ۳:۔۔۔۔۔ پہلی میں ’’کتبت لہٗ عبادۃُ ثمانین سنۃً‘‘کے الفاظ بھی ہیں، جب کہ دوسری میں صرف

’’غفرت لہٗ ذنوبُ ثمانین عامًا‘‘ کے الفاظ  آئے ہیں۔

 بہر حال ہر دو حدیث کا مضمون دوسرے کی تائید کرتا ہے۔ ذیل میں ان کی تخریج پیش کی جاتی ہے:

 ۱:۔۔۔۔۔ حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ والی روایت کو محدث ِ اندلس حافظ ابن بشکوال (المتوفی۵۷۸ھ) نے اپنی کتاب ’’القربۃ إلی رب العالمین بالصلاۃ علی محمد سید المرسلین‘‘ صفحہ:۱۱۴میں ذکر کیا ہے، جب کہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ والی روایت مذکورہ کتاب میں نہیں ملی، ملاحظہ ہو:

’’قال شیخنا أبو القاسم : وروینا  عن سهل بن عبداللّٰه قال: من قال في یوم الجمعة بعد العصر :’’ أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلی أٰله وسلم‘‘ ثمانین مرةً ، غفرت له ذنوبُ ثمانین عاماً‘‘.

حدیث پر کلام کرنے والے حضرت حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے چوں کہ اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی، اس بنا پر کسی بھی محدث یا مخرج نے اس پر صحت ،حسن یا ضعف کا حکم نہیں لگایا۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ کسی محدث نے اُسے موضوع بھی نہیں کہا۔موقوفاََ یہ روایت اسی طرح بیان کی جاتی ہے۔ لیکن درج ذیل سطروں میں جس طرح حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ کے استادشیخ ابو القاسم احمد بن بقی رحمہ اللہ (المتوفی۵۳۲ھ) سے امام مالک رحمہ اللہ تک کے رواۃ کا تذکرہ کیا گیا، اس سے اس حدیث کی صحت خوب واضح ہے۔ سند ِ حدیث ملاحظہ ہو: حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند میں ’’شیخنا أبو القاسم‘‘ کہنے پر اکتفا کیا ہے،اس سے ان کی مراد کون ہے؟چناں چہ ابن بشکوال رحمہ اللہ خود ہی اپنی تاریخ کی کتاب ’’الصلۃ‘‘ میں ان کا تذکرۂ خیر فرماتے ہیں:

’’أحمد بن محمد بن أحمد بن مخلد بن عبد الرحمٰن بن أحمد بن بقی بن مخلد بن یزید من أہل قرطبة یکنی: أبا القاسم ... وکان من بیئة علم و نباهة وفضل و صیانة، وکان ذاکراً للمسائل والنوازل، دربًا بالفتوٰی، بصیرًا بعقد الشروط و عللها، مقدماً في معرفتها۔ أخذ الناس عنه واختلفت إلیه و أخذت عنه بعض ما عنده ، وأجاز لي بخطه غیر مرة.‘‘

’’موصوف کا تعلق انتہائی شریف ،علمی اور پاکیزہ خاندان سے تھا۔ نِت نئے مسائل کا خوب استحضار اور فتویٰ نویسی میں خوب مہارت رکھتے تھے۔ شرائط اورعللِ حدیث میں بصیر ت انتہاکو تھی۔ لوگوں نے ان سے خوب علم حاصل کیا۔ میں نے بھی ان سے استفادہ کیا اور انہوں نے کئی مرتبہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر مجھے اجازت دی۔‘‘ موصوفؒ کی ولادت۴۴۶ھ کی اور وفات۵۳۲ھ کی ہے۔(۱)شیخ ابو القاسم اپنے استاد،بقیۃ الشیوخ، محدثِ اندلس، فقیہ وقت ابو عبداللہ محمد بن الفرج قرطبی مالکی طلاعی رحمہ اللہ (۴۰۴ھ -۴۹۷ھ)کے شاگردوں میں سے تھے۔  حافظ ذہبی رحمہ اللہ ان کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’و کان شدیدًا علی أھل البدع، مجانبا لمن یخوض فی غیر الحدیث۔‘‘(۲) ’’بدعتیوں کے سخت خلاف تھے،حدیث کے علاوہ دوسری ابحاث میں نہیں پڑتے تھے۔‘‘ ابو بکر محمد بن خیر اموی اشبیلی رحمہ اللہ(۵۰۲ھ -۵۷۵ھ) اپنی کتاب جو ’’فہرست ابن خیر‘‘ کے نام سے مشہورہے، میں موصوف کی کتاب الاحکام کی سند ذکر کرتے ہیں، جو اس بات کی شاہد ہے کہ شیخ ابو القاسم اپنے استاد ا بو عبداللہ محمد بن الفرج رحمہ اللہ کے علوم کے حامل تھے،ملاحظہ ہو: ’’کتاب أحکام رسول اللّٰہ ﷺ ، تألیف الفقیہ أبی عبد اللّٰہ محمد بن فرج رحمہٗ اللّٰہ، وکتاب الوثائق المختصرۃ من تألیفہ أیضا، حدثنی بھما الشیخ الفقیہ أبو القاسم أحمد بن محمد بن بقی رحمہ اللّٰہ قراء ۃ منی علیہ فی منزلہ، قال: حدثنی بہما أبوعبداللّٰہ محمد بن فرج مؤلفہما-رحمہٗ اللّٰہ- قراء ۃً علیہ۔‘‘(۳)اس کے بعد سند کا یہ سلسلہ کدھر جاتا ہے؟ چنانچہ فہرست ابن خیر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فقیہ ابوعبداللہ محمد بن الفرج روایت کرتے ہیں :ابو الولیدیوسف بن عبداللہ بن المغیث (۳۳۸ھ -۴۲۹ھ) سے، جن کا تذکرہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان الفاظ:’’الإمام الفقیہ، المحدث شیخ الأندلس، قاضی القضاۃ، بقیۃ الأعیان‘‘ سے کیا ہے۔ (۴)اوریہ روایت کرتے ہیں مسند الاندلس ابو عیسی یحییٰ بن عبداللہ اللیثی رحمہ اللہ (المتوفی۳۶۷ھ) سے اور یہ اپنے والد کے چچا ابو مروان عبیداللہ بن یحییٰ لیثی رحمہ اللہ (المتوفی۲۹۸ھ) سے جن کی قبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ بقول حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے: ’’اندلس میں ان کے جنازے سے بڑا کوئی جنازہ نہیں ہوا، حتیٰ کہ یہودیوں اور عیسائیوں  نے بھی ان کے جنازے میں شرکت کی۔‘‘ (۵)اور یہ اپنے والد، راویِ موطا، فقیہ کبیر یحییٰ بن یحییٰ بن کثیرالمصمودی الاندلسی القرطبی رحمہ اللہ (المتوفی۲۹۸ھ)رحمھم اللّٰہ تعالٰی أجمعین سے کرتے ہیں، جو کسی تعارف کے  محتاج نہیں ہیں۔اس سے آگے امام مالک رحمہ اللہ سے سند واضح ہے۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے اس درود کو اگر چہ تعلیقاً ذکر کیا ہے، لیکن سند کا سلسلہ جو ذکر کیا گیا اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان تک جو حدیث پہنچتی رہی وہ اسی سلسلے کی مرہونِ منت ہے، جس میں وقت کے بڑے بڑے علماء و محدثین شامل ہیں۔ شیخ ابو القاسم رحمہ اللہ کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات اور آشکارا ہوجاتی ہے، لہٰذا اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر یہ روایت موضوع و من گھڑت ہوتی تو اس قسم کا سلسلہ اس کو کیسے روایت کرتا؟!

 ۲:۔۔۔۔۔ متأخرین علماء میں سے محقق العصر،حافظ عبد الرحمن سخاوی رحمہ اللہ (المتوفی۹۰۲ھ) نے بھی ان دونوں روایات کو ’’القول البدیعـ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ملاحظہ ہو: ’’وفی لفظ عند ابن بشکوال من حدیث أبی ہریرۃؓ أیضا:من صلی صلاۃ العصر من یوم الجمعۃ فقال قبل أن یقوم من مکانہ :’’ أللّٰھم صل علٰی محمد النبی الأمی وعلٰی أٰلہ وسلم تسلیما‘‘ ثمانین مرۃ غفرت لہ ذنوبُ ثمانین عاما و کتبت لہ عبادۃُ ثمانین سنۃً۔ وعن سہل بن عبداللّٰہ قال: من قال فی یوم الجمعۃ بعد العصر :’’ أللّٰھم صل علٰی محمد النبی الأمی وعلٰی أٰلہٖ وسلم‘‘ ثمانین مرۃ  غفرت لہ ذنوبُ ثمانین عاما۔ أخرجہ ابن بشکوال۔ انتھٰی کلام السخاویؒ۔‘‘(۶)موصوف اپنے وقت کے محدث، محقق اور حافظ حدیث تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (المتوفی۸۵۲ھ) کے شاگردوں میں ان کا کوئی سہیم و شریک نہیں، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ھو أمثل جماعتی‘‘ یعنی وہ میرے شاگردوں میں سب سے زیادہ ممتاز ہیں۔ سخاوی رحمہ اللہ عللِ حدیث کے ماہر تھے۔ علمِ جرح وتعدیل کی ان پر انتہا ہوگئی، یہاں تک کہا گیا ہے کہ ذہبی رحمہ اللہ کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اُن کی راہ پر چلا ہو۔ تفصیلی حالات کے لیے ملاحظہ ہو: محقق العصر استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عبد الحلیم چشتی صاحب کی کتاب’’ فوائدِ جامعہ، ص:۵۰۸اور عربی زبان میں ’’الحافظ السخاویؒ و جہودہٗ فی علوم الحدیث‘‘ (د۔بدر بن محمد بن محسن العماش، مجلدین ، مکتبۃ الرشد، ریاض) قابلِ غور بات یہ ہے کہ علامہ سخاوی رحمہ اللہ جیسے بلند پایہ عالم جنہوں نے معتبر و غیر معتبر روایات میں فرق اور فتاویٰ حدیثیہ کے بارے میں دو کتابیں لکھیں: ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ اور ’’ الأجوبۃ المرضیۃ‘‘ وہ کس طرح اپنی کتاب میں ایسی حدیث ذکر کرسکتے ہیں جو موضوع ہو اور اُسے ذکر کرنا تحقیق کے خلاف ہو۔ اس قسم کے محقق سے یہ با ت بعید ہے۔ موصوف کی کتاب ’’القول البدیع‘‘ کو اللہ تعا لیٰ نے بڑی قبولیت اور جامعیت  سے نوازا ہے، چنانچہ ابن حجر ہیتمی مکی شافعی رحمہ اللہ (۹۰۹-۹۷۴ھ) ’’الدر المنضود‘‘ کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں: ’’فلا تری منھم من أحاط ببعض کتب ھذا المقصد الأسنی إلا الشاذ النادر، الذی خلصہٗ اللّٰہ من الحظوظ و العنا لاشتمالھا علٰی بعض البسط و زیادۃ التأصیل و التفریع، ککتاب الحافظ السخاویؒ المسمی ب’’القول البدیع‘‘ ، ھذا مع أنہٗ أحسنھا جمعا، وأحکمھا وضعا، و أحقھا بالتقدیم، وأولاھا بالإحاطۃ، لما فیہ من التحقیق والتقسیم۔‘‘ (۷)یعنی یہ کتاب ترتیب اور وضع کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور تحقیق اور ابحاث کی تقسیم کے اعتبار سے سب سے آگے ہے۔ حافظ مرتضیٰ زبیدی حنفی رحمہ اللہ (المتوفی۱۲۰۵ھ) ’’شرح احیاء العلوم‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ہو أحسن کتاب صنف فی الصلاۃ علیہ، صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔‘‘(۸) ’’درود شریف کے باب میں یہ کتاب سب سے بہترین تصنیف ہے۔‘‘ شیخ الشیوخ علامہ نبھانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’سعادۃ الدارین‘‘میں حافظ سخاوی رحمہ اللہ کی کتاب کا یوں تعارف کرایا ہے: ’’و أجمل ھٰذہٖ الکتب و أجمعھا، و أفضلھا فی علم ھذا الفن و أنفعھا: القول البدیع۔‘‘(۹) ’’اس فن کی تمام کتب میں سب سے عمدہ،جامع،افضل اور فائدہ مند کتاب ’’القول البدیع‘‘ ہے۔‘‘ موصوف کے علمی کمالات و کارناموں پر ایک علمی مقالہ لکھا گیا جس پر مصنف کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے۱۴۱۹ھ میں دکتوراہ (پی- ایچ - ڈی) کی ڈگری سے نوازا گیا۔ اسی طرح موصوف کی تصنیفات و تالیفات پر ایک کتاب بہ نام ’’مؤلفات السخاویؒ‘‘ لکھی گئی جو دار ابن حزم سے۱۹۹۸ء میں شائع ہوئی۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اس حدیث کو موضوع کس نے قرار دیا؟ اب تک ایسی کتاب یا کسی محدث کی عبارت نظر وں سے نہیں گزری جس نے اسے موضوع قرار دیا ہو۔بالفرض اگر کسی کے ذہن میں اس کے موضوع ہونے کا خیا ل آتا ہے تو شاید اس کے ذہن میں ہو کہ اتنے چھوٹے سے عمل پر اتنا بڑا ثواب کیسے مل سکتا ہے؟ جیسا کہ محدثین نے موضوع حدیث کے پہچاننے کے لیے اسے علامت کے طور پر لکھا ہے، ملاحظہ ہو:تدریب الراوی، ص:۲۴۰، ط:دار الحدیث،چنانچہ شیخ محمد عوامہ -حفظہٗ اللہ- نے ’’القول البدیع‘‘ کے مقدمہ میں عارف باللہ ابن عطاء اللہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے: ’’من فاتہٗ کثرۃ الصیام والقیام فعلیہ أن یشتغل نفسہٗ بالصلاۃ علٰی رسول اللّٰہ فإنک لو فعلتَ فی جمیع عمرک کلَّ طاعۃ ثم صلی اللّٰہ علیک صلاۃ واحدۃ، رجحت تلک الصلاۃ الواحدۃ علی کل ما عملتہٗ فی عمرک کلہٖ من جمیع الطاعات، لأنک تصلی علٰی قدر وسعک وہو یصلی حسبَ ربوبیتہٖ۔‘‘ ’’جس شخص کے بہت سے (نفلی)نماز روزے قضا ہوگئے ہوں،اُسے چاہیے کہ درود شریف پڑھنے کو اپنا مشغلہ بنالے، اس لیے کہ اگر تم ساری زندگی نیکیاں کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ تم پر ایک دفعہ رحمت کی نگاہ ڈال دے تو بے شک یہ نگاہِ رحمت تمہاری عمر بھر کی نیکیوں سے بہتر ہے، اس لیے کہ ایک تمہاری کوشش ہے اور ایک اس کی شانِ ربوبیت ہے۔‘‘ ہم معنی روایت جمعہ کے دن مطلقاً اَسّی(۸۰)مرتبہ درود شریف پڑھنا بھی حدیث شریف سے ثابت ہے، جس پر۸۰؍ سال کے گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے،ملاحظہ ہو: ’’عن أبی ھریرۃ ؓ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ : الصلاۃ علیَّ نورٌ علٰی الصراط، و من صلّٰی علیَّ یوم الجمعۃ ثمانین مرۃً غفرت لہٗ ذنوبُ ثمانین عامًا۔‘‘ ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا:مجھ پر درود پاک پڑھنا پل صراط پر نور کا باعث ہوگا۔ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر۸۰مرتبہ درود بھیجے گا اس کے۸۰سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ ‘‘ درج بالاحدیث مبارک کو مندرجہ ذیل محدثین نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے:۱:۔۔۔۔۔ابو حفص عمر بن احمد بن عثمان بغدادی المعروف بابن شاہین رحمہ اللہ(۲۹۷-۳۸۵ھ) نے اپنی کتاب ’’الترغیب فی فضائل الأعمال وثواب ذلک ‘‘میں یہ حدیث نقل کی ہے۔(۱۰)واضح رہے کہ ابنِ شاہین رحمہ اللہ اپنے وقت کے حافظ، عالم اورملک عراق کے بڑے شیخ تھے۔ موصوف کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی۷۴۸ھ) سیر اعلام النبلاء میں رقم طراز ہیں: ’’الشیخ الصدوق، الحافظ العالم، شیخ العراق و صاحب التفسیر الکبیر، أبو حفص عمر بن أحمد بن عثمان بن أحمد بن محمد بن أیوب بن ازداز البغدادی الواعظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال أبو الفتح بن أبی الفوارس: ثقۃ مأمون صنف ما لم یصنفہ أحد۔ وقال أبو بکر الخطیب: کان ثقۃ أمینا، یسکن بالجانب الشرقی۔ قال حمزۃ السھمی: سمعت الدارقطنیَ یقول:ابن شاہین یلح علی الخطأ، وہو ثقۃ۔‘‘ ’’ ابوالحفص عمر بن احمد بن عثمان بن احمد بن محمد بن ایوب بن ازداز بغدادی واعظ، شیخ ، صدوق ، حافظ اور عالم، عراق کے شیخ اورایک بڑی تفسیر کے مصنف تھے۔ موصوف کے بارے میں ابن ابی الفوارس فرماتے ہیں: قابل بھروسہ او ر اعتماد والی شخصیت ہیں۔ یہ وہ لکھ گئے جو کوئی نہیں لکھ پایا۔ ابوبکر خطیبؒ لکھتے ہیں: یہ بااعتماد اور امانت دار انسان تھے، مشرقی جانب سکونت پذیر تھے۔ حمزہ سہمیؒ‘ دارقطنی کا قول نقل کرتے ہیں: ابن شاہین اگر چہ معتمد تھے، لیکن اپنی غلطی پر جمے رہتے تھے۔‘‘ آخر میں امام ذہبی رحمہ اللہ نتیجہ نکالتے ہوئے اپنی تحقیق یوں پیش کرتے ہیں: ’’ماکان الرجل بالبارع فی غوامض الصنعۃ ولکنہٗ راویۃ الإسلام - رحمہ اللّٰہ-۔‘‘(۱۱) ’’اگر چہ فن حدیث کی باریکیوں سے بے خبر تھے، لیکن ’’راویۃ الاسلام‘‘کا لقب ان کا حق ہے۔‘‘۲۔ محدثِ اندلس ابو القاسم خلف بن عبدالملک ابن بشکوال رحمہ اللہ (المتوفی۵۷۸ھ) نے اپنی پوری سند کے ساتھ اس حدیث کو اپنی کتاب ’’القربۃ إلی اللّٰہ‘‘میں ذکر کیا ہے۔(۱۲)ابن بشکوال رحمہ اللہ کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ یہ الفاظ استعمال فرماتے ہیں، ملاحظہ ہو: ’’الإمام العالم الحافظ، الناقد المجود، محدث الأندلس، أبو القاسم خلف بن عبد الملک۔‘‘(۱۳)

 ۳:۔۔۔۔۔۔ ابو شجاع شیرَوَیہ بن شَھرَدار الدیلمی رحمہ اللہ (۴۴۵-۵۰۹ھ) نے اپنی کتاب ’’الفردوس بمأثور الخطاب‘‘ میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔(۱۴)

 ۴:۔۔۔۔۔ محقق العصر علامہ محمد بن عبد الرحمن سخاوی رحمہ اللہ (المتوفی۹۰۲ھ) نے اپنی کتاب ’’القول البدیع‘‘ میں اس درود پاک کو ذکر کر کے اس کی نہایت عمدہ تحقیق پیش کی ہے اور ضعف کا حکم لگا کر اس حدیث کے طرق پیش کیے ہیں۔ ملاحظہ ہو:(القول البدیع:ص:۳۹۹)(۱۵)

خلاصۂ تحقیق:

 ۱:۔۔۔۔۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد پڑھے جانے والے خاص درود شریف کا ثبوت(موقوفاً) احادیث کی کتابوں سے ملتا ہے۔(۱۶)

 ۲:۔۔۔۔۔ ثواب کی نیت سے اس کو پڑھ سکتے ہیں۔

 ۳:۔۔۔۔۔ اس کو بیان بھی کرسکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

 ۴:۔۔۔۔۔ جو لوگ اس حدیث کو موضوع کہتے ہیں ان کی رائے تحقیق کے خلاف ہے۔

 ۵:۔۔۔۔۔ حدیث مبارک میں۸۰؍ کے عدد سے تعیین وتحدید مقصد نہیں، بلکہ یہ ایک تعبیر ہے، درود شریف کی کوئی نہایت نہیں، اس میں زیادتی خیر کا باعث ہے، چنانچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے آپﷺ سے پوچھا کہ: میں اپنی دعاؤں میں کتنا حصہ درود کے لیے مقرر کروں؟ جواباً ارشاد فرمایا: جتنا تم چاہو، جتنا زیادہ پڑھوگے اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ (۱۷)                               

حوالہ جات:

 ۱:۔۔۔۔۔ کتاب الصلۃ،ج:۱، ص:۱۳۴، ط:دار الکتاب المصری۔  

 ۲:۔۔۔۔۔ سیر اعلام النبلائ،ج:۱۹، ص:۱۹۹، الصلۃ،ج:۳،ص:۸۲۳۔

 ۳:۔۔۔۔۔ فہرست ا بن خیر،ص:۲۴۶،ط:مؤسسۃ الخانجی۔القاہرۃ۔  

 ۴:۔۔۔۔۔ سیر،ج:۱۷،ص:۵۶۹۔

 ۵:۔۔۔۔۔ تاریخ الاسلام،ج:۶،ص:۹۷۹، ط:دارالغرب۔      

 ۶:۔۔۔۔۔ القول البدیع، ص:۳۹۹،ط:دار الیسر۔

 ۷:۔۔۔۔۔ الدر المنضود، ص:۳۴، الناشر:دار المنہاج،جدۃ ،الاولیٰ،۱۴۲۶ھ۔  

 ۸:۔۔۔۔۔شرح احیاء العلوم،ج:۳،ص:۲۹۰، طـ:بیروت،۱۴۱۴ھ۔

 ۹:۔۔۔۔۔ القول البدیع، ص:۸۔          

 ۱۰:۔۔۔۔۔الترغیب فی فضائل الاعمال وثواب ذلک، ص:۱۴، ط:دار الکتب العلمیۃ۔

 ۱۱:۔۔۔۔۔   سیر اعلام النبلاء ،ج:۱۶،ص:۴۳۱،ط:مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت۔

 ۱۲:۔۔۔۔۔ملاحظہ ہو:باب فضل الصلاۃ علی النبی ﷺعشیۃ الخمیس ویوم الجمعۃ، ص:۱۱۱،ط: دار الکتب العلمیۃ،الطبعۃ الاولیٰ،۱۴۲۰ھ۔

۱۳:۔۔۔۔۔  سیر،ج:۲۱،ص:۱۳۹۔  

 ۱۴:۔۔۔۔۔ ملاحظہ ہو: الفردوس للدیلمی،ج:۲،ص:۴۰۸، رقم الحدیث:۳۸۱۴، ط:دار الکتب العلمیۃ۔

 ۱۵:۔۔۔۔۔ تحقیق:محمد عوامہ، ط:دار الیسر۔

 ۱۶:۔۔۔۔۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ یہ حکماً مرفوع ہے، اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے وہ اقوال جو ثوابِ مخصوص یا عقابِ مخصوص کے بارے میں ہوں مرفوع کے حکم میں ہوتے ہیں۔انظر:تدریب الراوی، بحث :قول الصحابیؓ:کنانقول کذا، ص:۱۶۲، ط:قدیمی۔

 ۱۷:۔۔۔۔۔رواہ الترمذی فی کتاب صفۃ القیامۃ، باب:۲۳، وأخرجہ السخاوی وأحال إلی الترمذی، انظر القول البدیع،ص:۲۶۰۔

مأخوذ از ماہنامہ بینات، شمارہ رجب المرجب ۱۴۳۷ بمطابق مئی ۲۰۱۶


فتوی نمبر : 144003200476

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے