بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

جعلی پرچیاں بناکر میڈیکل الاؤنس وصول کرنا


سوال

 میری کمپنی مجھے میڈیکل الاؤنس دیتی ہے جو میں یوٹیلا ئز نہیں کرتا،  جو بیلنس بچ جاتا ہے اگر میں اسے جعلی پرچیاں بھروا کے لے لو ں تو اس میں کوئی قباحت تو نہیں؟ کیوں کہ وہ میرا میڈیکل الاؤنس ہے، اگر میں جعلی پرچی سے لے  لوں تو کوئی گناہ تو نہیں؟

جواب

کمپنی کی جانب سے آپ کو میڈیکل کی سہولت ادا کرنا ان کی طرف سے تبرع واحسان ہے، اور انہوں نے  یہ تبرع بیماری کی صورت میں علاج معالجہ اور ادویات وغیرہ کی ضرورت کے لیے دیا ہوتا ہے، علاج اور ادویات لیے بغیر محض جعلی رسیدیں بناکر یہ الاؤنس لینا شرعاً دھوکا دہی،اور دروغ گوئی ہے جو کہ ناجائز ہے۔

"عن أنس رضي اللّٰه عنه قال: ما خطبنا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم إلا قال: لا إیمان لمن لا أمانة له، ولا دین لمن لا عهد له". (مشکاة المصابیح ۱؍۱۵)
"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: من غش فلیس منا". (سنن الترمذي، باب ما جاء في کراهیة الغش في البیوع، ۱؍۲۴۵) 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200425

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے