بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

جانور آدھ آدھ پر دینے کا حکم


سوال

عام طور پر دیہاتوں میں جانور ایک دوسرے کو دیتے ہیں آدھ آدھ پر، اس جانور کے بچے بھی آدھ آدھ پر ہوتے ہیں، لیکن جانور کی خدمت ایک شخص کرتا ہے اور کبھی یہ صورت ہوتی ہے کہ اصل جانور ایک شخص کا، خدمت دوسرا کرتا ہے اور بچے آدھ آدھ ہوتے ہیں، شرعی حکم کیا ہے اور جائز صورت کیا ہے ؟ اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو شرعی حل کیا ہوگا؟

جواب

مذکورہ قسم کے معاملہ کو فقہاءِ احناف نے نا جائز لکھا ہے، البتہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ابتلاءِ شدید کی صورت میں اس کے جواز کی گنجائش کا قول اختیار کیا ہے، لہذا اگر ابتلاءِ عام ہو تو ایسا معاملہ کرنے کی گنجائش ہو گی، لیکن بہرحال احتیاط کرنا زیادہ بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201208

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں