بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جالی والی ٹوپی پہن کر امامت کرانا


سوال

 کالی اور جالی والی ٹوپی پہن امامت کر سکتا ہوں ؟  کوئی حرج ہے کہ نہیں؟

جواب

جالی والی ٹوپی اگر ایسی ہے کہ اس کو پہن کر آدمی معزز مجمع میں جا سکتا ہے، وہ صاف ستھری ہے  اور اس کو پہننا عار کا باعث نہ ہو تو ایسی ٹوپی پہن کر امامت کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ نیز اگر کالی ٹؤپی پہننے سے کسی کی مشابہت مقصود نہ ہو  تو اس کو پہن کر امامت کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ سفید ٹوپی پہن کر امامت کیجیے، اس میں سنجیدگی اور وقار بھی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201198

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے