بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جائز کام کروانے اور حق وصول کرنے کے لیے بوجہ مجبوری پیسے دینا


سوال

آج کل ہر جگہ جائز کام کروانے کے لیے بھی پیسے لیے جاتے ہیں، سڑک پر ٹریفک پولیس بھی پیسے لے کر چھوڑتی ہے۔ کیا اس طرح پیسہ دے کر کام نکلوانا ائز ہوگا؟

جواب

اگر کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے یا کاغذات نامکمل ہیں اور ٹریفک اہلکار کو کچھ دے کر جان چھڑائی تو رشوت کا گناہ ہوگا اور اگر اپنے جائز اور ضروری حق کے وصول کے لیے رقم دی تو یہ پیسے لینے والے کے لیے تو حرام ہوں گے، جب کہ دینے والے کے لیے، چونکہ وہ اپنے حق کی وصول یابی کے لیے پیسے دے رہا ہے، اس لیے  گنجائش ہوگی۔


فتوی نمبر : 143611200029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے