بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تیس شعبان کو روزہ رکھنے کا حکم


سوال

تیس شعبان کو روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ میں رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، لہذا تیس شعبان کا روزہ نہ رکھنا چاہیے، ہاں! اگر کوئی شخص ایسا ہے جو ہر پیر  اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہو اور تیس شعبان پیر یا جمعرات میں سے کسی ایک دن آ گئی تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص پورے شعبان روزے رکھتا ہو تو وہ بھی تیس شعبان کا روزہ رکھ سکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 381):
"(قوله: ولايصام يوم الشك) هو استواء طرفي الإدراك من النفي والإثبات، بحر (قوله: هو يوم الثلاثين من شعبان) الأولى قول نور الإيضاح: هو ما يلي التاسع والعشرين من شعبان أي؛ لأنه لايعلم كونه يوم الثلاثين؛ لاحتمال كونه أول شهر رمضان، ويمكن أن يكون المراد أنه يوم الثلاثين من ابتداء شعبان فمن ابتدائية لا تبعيضية، تأمل". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200757

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے