بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تکبیر تحریمہ دل میں کہنا


سوال

تکبیرِ  تحریمہ کو من(دل) میں کہنا کیسا ہے؟  اور اس میں کتنے اقوال ہیں؟ 

جواب

ابو بکر الاصم اور اسماعیل ابن علیہ کے علاوہ جمہور کے نزدیک تکبیرِ تحریمہ نماز کے لیے فرض ہے اور اس کے الفاظ کی ادئیگی زبان سے ضروری ہے،صرف دل میں ادائیگی سے نماز نہیں ہوگی۔

المبسوط للسرخسي (1 / 11):
وأما التكبير، فلا بد منه للشروع في الصلاة إلا على قول أبي بكر الأصم وإسماعيل ابن علية، فإنهما يقولان يصير شارعاً بمجرد النية، والأذكار عندهما كالتكبير والقراءة، ونية الصلاة ليست من الواجبات قالا: لأن مبنى الصلاة على الأفعال لا على الأذكار ألا ترى أن العاجز عن الأذكار القادر على الأفعال يلزمه الصلاة بخلاف العاجز عن الأفعال القادر على الأذكار؟ ولنا قوله تعالى: {وذكر اسم ربه فصلى} [الأعلى: 15] أي ذكر اسم الله - تعالى - عند افتتاح الصلاة، وظاهر قوله تعالى: {وأقم الصلاة لذكري} [طه: 14] يبين أن المقصود ذكر الله - تعالى - على وجه التعظيم فيبعد أن يقال ما هو المقصود لا يكون واجبا وهذا المعنى، فإن الصلاة تعظيم بجميع الأعضاء، وأشرف الأعضاء اللسان، فلا بد من أن يتعلق به شيء من أركان الصلاة". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200823

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے