بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1440ھ- 21 اپریل 2019 ء

دارالافتاء

 

تقریبات میں کھڑے ہوکر کھانے کا حکم


سوال

آج کل اکثر پروگراموں میں کھڑے ہوکر کھانا کھا تے ہیں، شرعی حکم میں کھڑے ہوکر کھانا کھا نا کیسا ہے؟

جواب

کسی عذر کے بغیر کھڑے ہوکر کھانا کھانا مکروہ اور  خلافِ سنت ہے، اور جب کوئی خلافِ سنت فعل اجتماعی طور پر کیا جائے تو اس کی قباحت اور شناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔ آج کل کی دعوتوں میں جو کھڑے ہوکر کھانا کھلانے کا رواج ہے، وہ درحقیقت اجتماعی طور پر خلافِ سنت عمل کے مترادف ہے، جس کی شناعت اور بھی زیادہ ہے، نیز  کھڑے ہو کر کھانا کھانا مغربی تہذیب اوراغیار کا طریقہ بھی ہے،  اور یہ انسان کی فطرت اور امتیازی شان کے بھی خلاف ہے ، اس لیے اس سے احتراز ہر مسلمان پر لازم ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200788

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں