بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تعینِ سمتِ قبلہ میں تحری کرنا کب درست ہے؟


سوال

کل عشاء کی نماز کسی دوسرے شہر میں پڑھنے کا اتفاق ہوا اور وہاں جا کر قبلہ کا تعین اپنے غالب گمان پر کیا، اور گھر میں موجود افراد میں سے کسی سے نہیں پوچھا، بعد میں گھر میں موجود افراد سے پتا چلا کہ میں نے غلط جہت کی طرف نماز  پڑھی ہے، کیا میری نماز ہوئی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سمتِ قبلہ کا تعین کرنے میں تحری (اندازا لگاکر غالب گمان پر عمل) کرنا اس وقت جائز ہے جب کسی دوسرے طریقے سے قبلہ کا تعین کرنا ممکن نہ ہو،  اگر کسی سے پوچھنا ممکن ہو اور نہ پوچھا، بلکہ تحری کر لی تو ایسی تحری کے درست ہونے کی صورت میں تو نماز درست ہو  جائے گی، لیکن اگر تحری غلط واقع ہو جائے تو نماز درست نہ ہو گی۔

 لہذا اگر آپ نے قریب میں افراد کے موجود ہوتے ہوئے ان سے نہیں پوچھا اور تحری کر لی اور وہ تحری غلط ثابت ہوئی تو آپ کی نماز درست نہ ہوئی، اس نماز کو دہرانا ضروری ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 430):
"فتبصر وتعرف بالدليل؛ وهو في القرى والأمصار محاريب الصحابة والتابعين، وفي المفاوز والبحار النجوم كالقطب وإلا فمن الأهل العالم بها ممن لو صاح به سمعه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 433):
"فأفاد أنه لايتحرى مع القدرة على أحد هذه، حتى لو كان بحضرته من يسأله فتحرى ولم يسأله إن أصاب القبلة جاز لحصول المقصود وإلا فلا؛ لأن قبلة التحري مبنية على مجرد شهادة القلب من غير أمارة وأهل البلد لهم علم بجهة القبلة المبنية على الأمارات الدالة عليها من النجوم وغيرها، فكان فوق الثابت بالتحري".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201184

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے