بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

تعزیت کے لیے کھڑے ہونے کا حکم


سوال

آج کل  تعزیت کے لیے جو کھڑے ہونے کا طریقہ رائج ہے، مثلاً:  ایک منٹ کے لیے تمام مجلس والے کھڑے ہوتےہیں۔  کب ،کہاں ،کیسے ،اور کس نے شروع کیا ہے؟

جواب

کسی مسلمان کے انتقال پر میت کے متعلقین سے تعزیت کرنا ( یعنی ان کو تسلی دینا اور صبر کی تلقین کرنا ) سنت سے ثابت ہے، تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا اگر موقع نہ ملے تو میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے، ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین کرے،  ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے کہے، تدفین کے بعد بھی تین دن کے اندر اندر تعزیت کرلی جائے، البتہ اگر سفر وغیرہ کوئی عذر ہو تو واپس آکر تعزیت کرلے۔ تعزیت کے الفاظ اور مضمون متعین نہیں ہے،صبر اور تسلی کے لیے جو الفاظ زیادہ موزوں ہوں وہ جملے کہے، تعزیت کی بہترین دعائیں درج ذیل ہیں:

1۔ ’’إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَ لَه‘ مَا أَعْطٰی وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَه‘ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘.

2۔ ’’أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَکَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَکَ وَ غَفَرَ لِمَیِّتِکَ‘‘.

باقی تعزیت کے لیے کھڑا ہونا یا خاموشی اختیار کرنا وغیرہ یہ طریقے نہ تو سنت سے ثابت ہیں اور نہ ہی ان کا دین سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی ان طریقوں سے تعزیت کرنے پر کوئی ثواب ملے گا،  کیوں کہ اس طرح سے تعزیت کرنا نہ تو حضور ﷺ سے ثابت ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین، فقہاءِ مجتہدین بشمول ائمہ اربعہ کے  کسی سے ثابت ہے، بلکہ اس طرح سے تعزیت کرنا کفار کا طریقہ اور ان کی رسم ہے؛ اس لیے مسلمانوں کو کفار کے طریقہ پر اپنے ایک دینی فریضہ کو ادا کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے، اگر مسلمان  کفار کے ساتھ تشبہ کی نیت سے  ایسے طریقے اختیار کریں گے تو یہ ناجائز اور سخت گناہ کا باعث ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ تعزیت کے لیے کھڑے ہونے کا طریقہ مسلمانوں کا نہیں ہے، کفار کا ہے اور انہی کا شروع کیا ہوا ہے، باقی یہ طریقہ کب، کہاں اور کیسے شروع ہوا؟  یہ ہمارے علم میں نہیں ہے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 618):

" وتستحب التعزية للرجال والنساء اللاتي لا يفتن؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى أخاه بمصيبة كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة". وقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى مصاباً فله مثل أجره". وقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى ثكلى كسي بردين في الجنة".

قوله: "تستحب التعزية الخ" ويستحب أن يعم بها جميع أقارب الميت إلا أن تكون امرأةً شابةً، وهو المشار إليه بقوله: اللاتي لا يفتن، وهو بالبناء للفاعل، ولا حجر في لفظ التعزية، ومن أحسن ما ورد في ذلك ما روي من تعزيته صلى الله عليه وسلم لإحدى بناته وقد مات لها ولد فقال: "إن لله ما أخذو له ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى، أو يقول: عظم الله أجرك وأحسن عزاءك وغفر لميتك، أو نحو ذلك"، وقد سمع من قائل يوم موته صلى الله عليه وسلم ولم ير شخصه قيل: إنه الخضر عليه السلام، يقول معزياً لأهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم: "إن في الله سبحانه عزاءً من كل مصيبه وخلفاً من كل هالك ودركاً من كل فائت، فبالله تعالى فثقوا، وإياه فارجوا، فإن المصاب من حرم الثواب". رواه الشافعي في الأم، وذكره غيره أيضاً، وفيه دليل على أن الخضر حي، وهو قول الأكثر، ذكره الكمال عن السروجي، والعزاء بالمد: الصبر، أو حسنه، وعزى يعزي من باب تعب: صبر على ما نابه، وعزيته تعزية: قلت له: أحسن الله تعالى عزاءك، أي رزقك الصبر الحسن، كما في القاموس والمصباح، ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام، وأولها أفضل وتكره بعدها؛ لأنها تجدد الحزن، وهو خلاف المقصود منها؛ لأن المقصود منها ذكر ما يسلي صاحب الميت ويخفف حزنه ويحضه على الصبر، كما نبهنا الشارع على هذا المقصود في غير ما حديث قوله: "من حلل الكرامة" أي الدالة على تكريم الله تعالى إياه، وقد حث الشارع المصاب على الصبر والاحتساب، وطلب الخلف عما تلف فروى مالك في الموطأ عن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من أصابته مصيبة فقال كما أمره الله تعالى إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم أجرني في مصيبتي وأعقبني خيراً منها إلا فعل الله تعالى ذلك به"، وأجرني بسكون الهمزة والجيم فيها الضم والكسر، وقد تمد الهمزة مع كسر الجيم ولمسلم "إلا أخلفه الله  تعالى خيراً منها"، فينبغي لكل مصاب أن يفزع إلى ذلك، وظاهر الأحاديث أن المأمور به قول ذلك مرةً واحدةً فوراً؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: "إنما الصبر عند الصدمة الأولى"، رواه البخاري. وخبر ولو ذكرها ولو بعد أربعين عاماً فاسترجع كان له أجرها يوم وقوعها زيادة فضل لاتنافي استحباب فور وقوع المصيبة، كما ذكره الزرقاني في شرح الموطأ، وروى الطبراني وغيره: "إذا أصاب أحدكم مصيبة فليذكر مصيبته في؛ فإنها من أعظم المصائب". وفي لفظ ابن ماجه: "فليتعز بمصيبته بي؛ فإن أحداً من أمتي لن يصاب بمصيبة بعد أشد عليه من مصيبتي". ولله در القائل:

اصبر لكل مصيبة وتجلد ... واعلم بأن المرء غير مخلد.

وإذا ذكرت مصيبة تسلو بها ... فاذكر مصابك بالنبي محمد.

وأنشدت فاطمة الزهراء رضي الله تعالى عنها بعد موت أبيها صلى الله عليه وسلم:

ماذا على من شم تربة أحمد ... أن لا يشم مدى الزمان غواليا.

صبت علي مصائب لو أنها ... صبت على الأيام عدن لياليا".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے