بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، پانچ بیٹوں اور چار بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم کا طریقہ کار


سوال

ایک مکان ہے جو 32 لاکھ کا بک رہا ہے تو اس میں آدھے پلاٹ کو بیچ کر تین بھائی اور دو بہن کو حصہ دینا چاہ رہے ہیں، اور آدھا پلاٹ جو نہیں بیچ رہے ہیں اس میں دو بھائی دو بہن اور ایک والدہ یعنی میت کی بیوہ کو حصہ دینا چاہ رہے ہیں اور کوئی نانی نانا دادی دادا نہیں ہیں۔ اس میں کس کا کتنا حصہ ہو گا؟

جواب

آپ نے سوال میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ پوچھا ہے لیکن سوال میں ورثاء کی تفصیل صراحۃً موجود نہیں، تا ہم سوال سے جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ مرحوم کی ایک بیوی ہے، پانچ بیٹے ہیں اور چار بیٹیاں ہیں۔

مذکورہ صورت حال میں مرحوم کی تجہیز و تکفین و قرضہ جات کی ادائیگی  اور وصیت کے نفاذ کے بعد مرحوم کے کل ترکہ کو 16 حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی بیوی کو 2 حصے، ہر ایک بیٹے کو 2 حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم کی بیوی کو 12 اعشاریہ 5 فیصد، ہر ایک بیٹے کو  بھی 12 اعشاریہ 5 فیصد اور ہر ایک بیٹی کو 6 اعشاریہ 25 فیصد ملے گا۔

اگر مکان کو آپس میں تقسیم کرنا چاہتے ہوں تو  مکان کا جو حصہ جس کو دینا چاہیں اس کو دے دیں اور اگر وہ جگہ اس کے حصے سے زائد ہو تو زائد رقم دوسرے ورثاء کو دے دے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200176

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے