بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

تدفین کے بعد میت پر کون سا وقت ہوتا ہے؟


سوال

قبر میں رکھنے کے بعد میت پر کون سا وقت ہوتاہے، دن یا رات کے حصے میں سے؟ اور اس وقت کی علت کیا ہے؟

جواب

سننِ ابن ماجہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مردے کو قبر میں دفن کیاجاتاہے تو غروبِ آفتاب کا وقت پیش کیاجاتاہے:سننِ ابن ماجہ میں ہے:

''عن جابر بن عبد الله ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : إذا دخل الميت القبر ، مثلت الشمس عند غروبها ، فيجلس يمسح عينيه ، ويقول : دعوني أصلي.''۔

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب مردہ (مؤمن) کو قبر کے اندر دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کے سامنے غروبِ آفتاب کا وقت پیش کیا جاتا ہے، چناں چہ وہ مردہ ہاتھوں سے آنکھوں کو ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے اور کہتا ہے مجھے چھوڑ دو تاکہ میں نماز پڑھ لوں۔"

علامہ قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

'' دفن کے بعد مردہ کے سامنے غروب آفتاب کا وقت پیش کرنا اس کی حالت مسافر اور تنہائی کی مناسبت کی وجہ سے ہے، چناں چہ جب کوئی مسافر کسی شہر میں شام کو پہنچتا ہے تو وہ حیرانی و پریشانی کے عالم میں چاروں طرف دیکھتا ہے کہ کہاں جاؤں اور کیا کروں؟ جیسا کہ شامِ غریباں مشہور ہے''۔(مظاہر حق )فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں