بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

تختہ والی کرسی پر نماز


سوال

 اکثر مسجدوں میں کمزور افراد کے لیے کرسی رکھی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ کرسی کے سامنے والے تختے پر سجدہ کرنا جائز ہے کہ نہیں ؟

جواب

اگر کوئی واقعۃ اس قدر معذور ہو کہ وہ کرسی پر نماز پڑھ رہا ہو تو اس حالت میں اس کا سجدہ محض جھکنا ہے نہ کہ تختہ پر سر لگانا۔رکوع کے لیے تھوڑا کم اور سجدہ کے لیے زیادہ جھکے گا۔البتہ اگر اس میں تختہ ہے، لیکن  جھک کر سجدہ کرنا پایا جارہا ہے تو اس کا سجدہ ہو جائے گا۔

’’والخامسة من الفرائض السجدة وهي فریضة تتأدی بوضع الجبهة علی الأرض أومایتصل بها بشرط الانخفاض الزائد علی نهایة الرکوع مع الخروج عن حدالقیام …وأما تأدیته علی وجه الکمال؛ فهوبوضع الجبهة والأنف والقدمین والیدین والرکبتین؛ لمامر في الصحیحین…اھ  …‘‘ ( حلبي کبیري : ۲۴۷ ) 

’’إن فعل وهو یخفض برأسه لسجوده أکثر من رکوعه صح علی أنه إیماء لا سجود، إلا أن یجد قوة الأرض‘‘. (الدر المختار)

وفي الشامية: ’’فحینئذٍ ینظر إن کان الموضوع مما یصح السجو د علیه کحجر مثلاً ولم یزد ارتفاعه علی قدر لبنةٍ أو لبنتین فهو سجود حقیقي، فیکون راکعاً ساجدًا لامؤمیًا  ... وإن لم یکن الموضوع کذلک یکون مؤمیًا ... بل یظهر لي أنه لو کان قادرًا علی وضع شيء علی الأرض مما یصح السجود علیه أنه یلزمه ذلک؛ لأنه قادر علی الرکوع والسجود حقیقةً، ولا یصح الإیماء بهما مع القدرة علیهما‘‘.  (الدر المختار مع الشامي ۲؍۵۶۹ ، الفتاویٰ الهندیة ۱؍۱۳۶)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200445

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں