بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیٹے یا بیٹی کا والد کی جیب سے چھپ کر پیسے لینے یا جھوٹ بول کر اسکول فیس کی مد میں زیادہ پیسے لینے کا حکم


سوال

اگر بیٹا والد کی جیب سے بغیر بتائے پیسے چھپتا لیتا ہے تو کیا یہ چوری کے زمرے میں آئے گا ؟ اسی طرح سکول کی فیس 500 ہے اور بیٹا ہزار روپے لیتا ہے، گھر سے فیس کے بتا کر تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اگر یہی کام کوئی لڑکی کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

بیٹے یا بیٹی  کا والد کی جیب سے بغیر بتائے چوری چھپے پیسے لینا چوری کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز ہے، اسی طرح اسکول کی فیس  (مثلاً) ۵۰۰ ہونے کی صورت میں جھوٹ بول کر فیس کی مد میں ہزار روپے لینا بھی جھوٹ اور دھوکا دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200379

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے