بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کی شادی کی سیونگ کے لیے اسلامک انشورنس پالیسی لینا


سوال

میں اپنی بیٹی کی شادی کی سیونگ کے لیے اسلامک انشورنس پالیسی لینا چاہتا ہوں، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

اسلامی انشورنس کے نام سے جو  طریقہ اختیار کیا گیا ہے ،ملک کے جمہور علماء کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔ لہذا بیٹی کی شادی کی سیونگ کے لیے اسلامک انشورنس پالیسی لینا   جائز نہیں ہے ۔ بیٹی کی شادی کی رقم جمع کرنے کے لیے کوئی جائز طریقہ ہی اختیار کرنا چاہیے؛ تاکہ شادی بھی   برکت والی ہو۔

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن". (5/166، مطلب کل قرض جر نفعاً، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201135

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے