بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کی شادی کی نیت سے بک کرائے گئے فلیٹ پر زکاۃ


سوال

میں نے ایک فلیٹ بک کروایا ہے جس کی ہر مہینے قسط ادا کرتا ہوں مقصد بک کروا نے کا بیٹی کی شادی ہے، کیا اس پر زکاۃ ہوگی؟

جواب

اگر  یہ نیت ہے کہ شادی پر بیٹی کو دیں گے اور مذکورہ فلیٹ کا ڈھانچہ وغیرہ کھڑا کردیا گیا ہے تو اس فلیٹ پر زکاۃ نہیں ہے۔ اور جو رقم اس سال واجب الادا ہے وہ دیگر اثاثہ جات کی زکاۃ مٰیں سے منہا ہوگی۔ اور اگرابھی ڈھانچہ کھڑا نہیں ہوا تو وہ رقم جو آپ ادا کرچکے ہیں، اس رقم کی زکاۃ  آپ کے ذمے ہے۔

اور اگر مقصد اس کو فروخت کرکے بیٹی کی شادی کرنا ہے تو بہرصورت اس پر زکاۃ لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200920

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے