بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا نام زینب رکھنا


سوال

اپنی بیٹی کا نام زینب رکھنا چاہتا ہوں جو  11 فروری 2019 کو دنیا میں آئی، آپ بتاسکتے ہیں کہ یہ نام بھاری تو نہیں پڑے گا ؟میں سنی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں۔

جواب

صحابیات میں سے کئی صحابیات کا نام زینب تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے دو کا نام "زینب" تھا، جن میں سے ایک زوجہ کا نام "برہ"  تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل فرماکر "زینب"  رکھا ، لہذا بلاتردد یہ نام رکھ سکتے ہیں۔ 

جیسا کہ صحیح  مسلم ـ (6 / 173):
"عن أبي هريرة أن زينب كان اسمها برة، فقيل: تزكى نفسها. فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب". (الآداب ،باب استحباب تغییر الاسم القبیح إلی حسن... الخ ،دار الجیل بیروت) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201255

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے