بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے مطالبہ پر طلاق نامہ پر دستخط کرنا


سوال

میرا نام رشیدہ بانو ہے اور میری عمر 65 سال کے قریب ہے، گزشتہ سال میری میرے شوہر سے کسی بات پر تکرار ہوگئی اور میں ایک صفحے پر یہ تحریر کر کے اپنے شوہر کے پاس لے آئی کہ مجھے آپ طلاق دےدیں، مجھے آپ طلاق دے دیں، مجھے آپ طلاق دے دیں، میرے شوہر نے اس کے نیچے اپنے دستخط کر دیے، اور اس کے بعد ہم روز مرہ کی طرح زندگی گزارنے لگے، میں نے جب معلوم کیا تو مجھے بتایا گیا کہ مجھے طلاق ہوچکی ہے اور میر ا شوہر اس بات پر بضد ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اور میں اپنے بیٹے کے پاس امریکہ میں رہتی ہوں ،گزشتہ 6 ماہ سے میں نے اپنے شوہر سے کنارہ کشی کی ہوئی ہے، مگر ہم رہتے ایک ہی گھر میں ہیں اور الگ الگ کمرے میں،میرے بیٹے کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ مجھے یا اپنے والد کو الگ گھر لے کر دے سکے، میرے آپ سےچند سوال ہیں:

 قرآن و سنت کی روشنی میں بتایئے کہ ہمارے درمیان طلاق واقع ہو گئی ہے؟

میر ا اپنے بیٹے کے ساتھ بحالتِ مجبوری اپنے سابقہ شوہر کی موجودگی میں رہنا کیسا ہے؟

 اور میں اپنے شوہر سے دوبارہ نکاح کیسے کر سکتی ہوں؟

جواب

اگر سائلہ کے شوہر نے مذکورہ تحریر پر صرف دستخط کیے تھے ، زبان سے کچھ نہیں تھا تو طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں، دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ فتاوی شامی میں ہے:

حاشية رد المختار على الدر المختار - (8 / 117):
’’ وفي البحر عن المحيط: لو قالت لزوجها: طلقني، فأشار إليها بثلاث أصابع، وأراد به ثلاث تطليقات لا يقع مالم يقل هكذا؛ لأنه لو وقع وقع بالضمير، والطلاق لايقع بالضمير اهـ‘‘. 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200299

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں