بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی موجودگی میں سالی سے نکاح جائز نہیں


سوال

کیامیں اپنی بیوہ سالی سے نکاح کرسکتاہوں؟میری بیوی اور تین بچے ہیں ، نکاح کی وجہ ا س کی مدد ہے ۔وہ پاکستان میں آتی ہے تو اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے۔اس کا بیٹا باہر سے واپس نہیں آنا چاہتا۔مہربانی فرماکر راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن یعنی سالی سے نکاح کرناجائز نہیں ، دوبہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرناحرام ہے ، قرآن کریم میں اس کی صراحت موجود ہے:

وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ۔

اور دو بہنوں کا ایک ساتھ (نکاح میں) رکھنا بھی (تم پر حرام ہے)۔(النساء23)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143905200093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے